ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2015 |
اكستان |
|
مار کر بیٹھ جائے۔ اِس اِنسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنوں، پرایوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، محلہ داروں اور اہلِ شہر کا حق پہچانے اور جس کا جو حق ہو اُس کواَداکرنے کے لیے مستعد اور سرگرم رہے۔ اِس انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ چاند، سورج، آسمان و زمین، اِنسان و حیوان غرض دُنیا کے اِس کارخانے کوعبث اور بیکار نہ سمجھے۔ خود اپنے نفس کو آزاد، منہ چُھٹ ،بے لگام نہ قرار دے بلکہ یہ یقین کرے کہ اُس کا ہر فعل و عمل اورہر ایک قول ایک تخم ہے اور جس طرح گندم سے گندم اور جو کے بیچ سے جو ہی پیداہوتا ہے اِسی طرح اُس کے عمل و قول کا وہ نتیجہ لازم طورپر رُونما ہوگا جو قدرت نے اُس عمل کے لیے مخصوص کردیا ہے جو خود اُس پر اور اُس کے اَنجام اورمستقبل پر اَثر ڈالے گا۔ پس تقاضائِ اِنسانیت یہ ہے کہ اِنسان اپنے ہرایک عمل اوراُس کے نتیجے پر نظر رکھے اور کسی وقت بھی پاداشِ عمل سے غافل نہ ہو۔ اِنسانیت کی یہ وہ تفسیرہے جس سے دُنیاکا کوئی مذہب اور سنجیدہ اِنسان اِنکار نہیں کر سکتا۔ آپ یقین فرمائیے اِسی انسانیت کادُوسرا نام ''اِسلام'' ہے جو اِس اِنسانیت کے تقاضے ہیں وہی اِسلام کے فرائض ہیں۔ یہ اِنسانیت جن باتوں اور جن تقاضوں کا مطالبہ کرتی ہے وہی بعینہ اِسلام کے مطالبات ہیں۔ اِنسانیت کے تقاضے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں اَب اِسلام کے مطالبات ملاحظہ فرمائیے : مطالبات ِ اِسلام : (١) اِسلام کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ اِنسان اُس ہستی کا اِعتراف واِقرار کرے جس نے اِس پورے عالم کو پیدا کیا اور اِس کاوہ قانون بنایا جس کو'' قانونِ قدرت'' اور'' فطرت'' یا''نیچر'' کہاجاتا ہے۔ (٢) پھر اگر آپ قانونِ قدرت میں ''اصولِ اِرتقا کو'' تسلیم کرتے ہیں توآپ کا اَخلاقی اور اِنسانی فرض ہے کہ آپ یہ بھی مانیں اور تسلیم کریں کہ خود آپ کا عمل اور کردار بھی قانونِ اِرتقاء سے آزاد