ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014 |
اكستان |
|
مجلس میں شریک نہ ہونے پائے۔ بلوائیوں کو یہ اَمرسخت ناگوار ہوا، وہ جانتے تھے کہ اِس تنہائی کی ملاقات کے بعد حضرت علی ہمارے قابو سے نکل جائیں گے لہٰذا اُن لوگوں نے یہ تجویز سوچنا شروع کی کہ کوئی ایسی بات کرو کہ صلح ٹوٹ جائے اور ملاقات نہ ہونے پائے۔'' عبداللہ بن سبا ''مشہور منافق موجد مذہب ِشیعہ بھی اِن بلوائیوں میں صرف شامل ہی نہ تھا بلکہ سب کا سردار تھا، اُس نے یہ رائے دی کہ تم آج ہی رات میں لڑائی شروع کر دو اور اِس کے بعد حضرت علی کویہ اِطلاع دو کہ اُس فریق نے بد عہدی کرکے جنگ شروع کردی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اِن مفسدوں نے خود بخود پچھلی رات میں جنگ شروع کردی ،اِس کا پھر دُوسری طرف سے بھی جواب دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں یہ شہرت تھی کہ حضرت طلحہ و زبیر نے بد عہدی کی، اُس جانب یہ مشہور تھا کہ حضرت علی کی طرف سے بد عہدی ہوئی غرضیکہ بڑے معرکے کی جنگ ہوئی دونوں طرف سے تیرہ ہزارمسلمان شہید ہوئے، حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم بھی اِسی جنگ میں شہید ہوئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تومیدانِ جنگ میں شہید ہوگئے مگرحضرت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ سے کنارہ کش ہوکر واپس جارہے تھے کہ راستے میں اُن کو اِبن جرموز نے شہید کردیا۔ اِبن جرموز حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے بہ اُمیداِنعام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اَمیر المومنین مبارک ہو کہ میں نے آپ کے دُشمن کو قتل کردیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کس کو ؟ اُس نے کہا کہ زبیر کو۔ آپ نے فرمایا کہ میں تجھ کو خوشخبری سناتا ہوں کہ تو دوزخ میں جائے گا۔ اِبن جرموز نے کہا کہ واہ ! آپ نے خوب اِنعام دیا۔ آپ نے فرمایا میں کیا کروں، مجھ سے رسولِ خدا ۖ نے فرمایا تھا : یَا عَلِیُّ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنَ صَفِیَّةَ بِالنَّارِ یعنی اے علی ! میری پھوپھی صفیہ کے بیٹے کو جو شخص قتل کرے اُس کو تم دوزخ کی خوشخبری سنادینا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ آنحضرت ۖ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے یہ سن کر اِبن جرموز نے خود کشی کرلی۔ حضرت علی نے یہ