Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014

اكستان

29 - 65
نے اِن جھگڑوں میں پڑنے سے اِنکار کیا، حضرت طلحہ و زبیر نے قرآنِ مجید کی وہ آیت پڑھی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں صلح کی کوشش کا حکم دیا ہے، بالآخر حضرت عائشہ اِن کی رائے سے متفق ہوگئیں اور مشورہ طے پایا کہ جب تک اُن بلوائیوں کا زور کم نہ ہو، مدینہ نہ جانا چاہیے بلکہ عرب سے باہر کوئی گوشہ ٔ عافیت تجویز کرنا چاہیے اور کسی تدبیر سے علی کو اِن مفسدوں کے گروہ سے جدا کر کے اپنے ساتھ لے جانا چاہیے پھر تمام کام بن جائے گا ،حضرت عثمان کا قصاص بھی لے لیا جائے گا اور اِن مفسدوں کی گوش مالی بھی ہوجائے گی چنانچہ اِس تجویز کے مطابق یہ لوگ بصرے کی طرف روانہ ہوئے، بلوائیوں نے یہ قصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے بہت رنگ آمیزی کے ساتھ بیان کیا اور اُن کو یہ سمجھایا کہ یہ لوگ آپ کو خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اور جو اَصل نیت اُن لوگوں کی تھی اُس کا علم بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہ ہونے دیا۔ 
حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بجانب بصرہ روانہ ہوئے، حضراتِ حسنین  اورعبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس اِس فوج کشی کے مخالف تھے مگر اُن کی کچھ نہ چلی، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج بصرے کے قریب پہنچ گئی تو آپ نے حضرت قعقاع  کو قاصد بناکر حضرت طلحہ وزبیر کے پاس بھیجا، حضرت قعقاع   اَوّلاً اُم المومنین  سے ملے، اُنہوں نے صاف فرمادیا کہ میرا مقصود صرف اِصلاح ہے کہ کسی طرح یہ فتنہ و فساد دُور ہو اور اَمن قائم ہوجائے ،قعقاع   نے حضرت طلحہ و زبیر سے ملاقات کی اور پوچھا کہ آپ لوگوں نے اِصلاح کی کیا صورت تجویز کی ہے  ؟
اِن دونوں نے کہا کہ قاتلانِ عثمان سے قصاص لیے بغیر اَمن نہیں ہوسکتا۔ حضرت قعقاع   نے کہا کہ یہ مقصود تو بغیر اِس کے کہ سب مسلمان متفق ہوجائیں حاصل نہیں ہوسکتا لہٰذا آپ لوگوں کو چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مِل جائیں اور باہم متفق ہو کراِس کی تدبیر کیجیے۔ یہ رائے حضرت طلحہ وزبیرنے بھی پسند کی اور حضرت قعقاع   صبح کو خوشخبری لے کر حضرت علی  کے پاس گئے وہ بھی بہت خوش ہوئے،تین دِن تک باہم نامہ وپیام جاری رہا، تیسرے دِن شام کو یہ بات طے ہوئی کہ صبح کو حضرت علی کی ملاقات حضرت طلحہ و زبیر کے ساتھ اِس طرح ہو کہ اِن بلوائیوں میں سے کوئی شخص اِس
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 8 1
5 جدید اُصول بھی ''وحی'' کے تابع : 9 4
6 اَخلاقی ضرورت : 10 4
7 بصرہ میں وبائی حملہ : 11 4
8 جسے خدا رکھے اُسے کون چکھے ! 11 4
9 یہ کام ثواب کیسے بن سکتا ہے ؟ 12 4
10 خرچ بھی رُعب بھی : 13 4
11 اَولاد کے لیے بہترین تحفہ : 14 4
12 اَدب سکھانا واجب ہے : 14 4
13 دِل میں اللہ کا خوف بٹھائو : 14 4
14 اِسلام کیا ہے ؟ 16 1
15 آٹھواں سبق : معاشرت کے اَحکام و آداب اور باہمی حقوق 16 14
16 بڑوں کے چھوٹوں پر اور چھوٹوں کے بڑوں پر عام حقوق : 16 14
17 پڑوسی کے حقوق : 16 14
18 قصص القرآن للاطفال 19 1
19 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصّے 19 18
20 ( بنی اِسرائیل کی گائے کا واقعہ ) 19 18
21 سیرت خُلفا ئے راشد ین 23 1
22 اَمیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ 23 21
23 حالات قبل اِسلام وبعد اِسلام : 24 21
24 حضرت علی کے فضائل و مناقب : 25 21
25 حضرت علی مرتضیٰ کی خلافت : 27 21
26 جنگ ِ جمل : 28 21
27 جنگ ِ صفین : 32 21
28 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت : 34 21
29 حضرت علی مرتضیٰ کے بعض اَوصاف : 36 21
30 حضرت علی مرتضیٰ کے بعض کلمات ِ طیبات : 37 21
31 اِسلامی معاشرت 45 1
32 میاں بیوی کے تعلقات : 45 31
33 شوہر کے لیے نبوی ہدایات : 46 31
34 حاصلِ مطالعہ 49 1
35 حضرت اَبو عبیدہ نے لیا ہوا جزیہ واپس کردیا : 49 34
36 صحابۂ کرام کی مذہبی رَواداری کا مظاہرہ : 50 34
37 کنگ فہد کمپلیکس میں مصحف ِتاج کی طباعت 52 1
38 مصحف ِتاج اور قرآن کمپلیکس کا نظامِ مراجعت : 54 37
39 مصحف ِتاج کی مراجعہ کمیٹی کے اَرکان : 54 37
40 مصحف ِتاج کے مراجعہ کا طریقۂ کار : 55 37
41 ایک علمی لطیفہ : 56 37
42 دُوسرا علمی لطیفہ : 56 37
43 تیسرا علمی لطیفہ : 56 37
44 وفیات 59 1
45 بقیہ : اِسلامی معاشرت 60 31
46 اَخبار الجامعہ 61 1
47 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد 65 1
Flag Counter