ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014 |
اكستان |
|
نے بڑی کوشش اِس لیے کی تھی کہ آپ کو رسول اللہ ۖ کے اِرشادات سے یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ آئندہ چل کر ایک فرقہ'' روافض '' کا پیدا ہوگا وہ آپ کی محبت وپیروی کا دعوی کرے گا اور بہت سی بے دینی کی باتوں کو آپ کی طرف منسوب کرے گا جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق کیا۔ ٭ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جب بلوائیوں نے محاصرہ کیا تو آپ نے سب سے زیادہ اُن کی حمایت و حفاظت میں حصہ لیا حتی کہ حضراتِ حسنین کو اُن کے دروازے پر حراست کے لیے مامور کیا اور جب وہ شہید ہوگئے تو آپ کو بڑا صدمہ ہوا اور اُن کی تعریف میں بہت کلمات اِرشاد فرمائے۔ حضرت علی مرتضیٰ کی خلافت : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دُوسرے دِن آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی، مدینے میں جس قدر مہاجرین واَنصار تھے، سب نے آپ کے ہاتھ پر بر ضا ورغبت بیعت کی سوائے حضرت طلحہ و زبیر کے کہ اِن دونوں نے بلوائیوں کے جبر سے بیعت کی اور بیعت کرنے کے بعد فورًا مکے چلے گئے ، اہلِ شام نے آپ کی خلافت کو تسلیم نہیںکیا، اُن کا خیال یہ تھا کہ جس قدر مہاجرین واَنصار نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب نے بلوائیوں سے جبر سے بیعت کی ہے۔ آپ کے عہد ِخلافت میں کفار سے جہاد بالکل موقوف رہا اور اِسلامی فتوحات میں کوئی اِضافہ نہیںہوا، آپ کا تمام زمانہ ٔ خلافت آپس کی لڑائیوں میں صرف ہوگیا، تین لڑائیاں آپ کو پیش آئیں۔ اَوّل : جنگ ِ جمل جس میں اُم المومنین حضرت عائشہ ،حضرت طلحہ اور زبیر سے لڑناپڑا۔ دوم : جنگ ِ صفین جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہلِ شام سے مقابلہ ہوا ۔ سوم : جنگ ِ نہروان جس میں خوارج سے مقابلہ ہوا۔ یہ آپ کی آخری لڑائی تو تمام صحابہ کے نزدیک پسندیدہ تھی اور بعض اَحادیث میں اِس کے متعلق پیشنگوئی اور پسندیدگی کے کلمات بھی وارِد ہوئے ہیں مگر جنگ ِ جمل و جنگ ِ صفین کو اَکثر صحابہ نے ناپسند کیا اور بہت سے محتاط لوگ اِن لڑائیوں