ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2014 |
اكستان |
|
دیکھ کر بلند آواز سے تکبیر پڑھی کہ دیکھو حضور ۖ نے جو فرمایا تھا وہ کیسا سچا نکلا۔ اِختتام ِ جنگ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں مقتولوں کی لاشیں دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے اور ایک مقام پر پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے آواز دی یٰا اَبَتِ وَاللّٰہِ فَرْخُ قُرَیْشٍ یعنی اے باپ قسم اللہ کی ایک نوجوان بچہ قریش کا یہاں پڑا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ؟ تو اُنہوں نے کہا محمد بن طلحہ حضرت علی نے فرمایا وَاللّٰہِ کَانَ شَابًا صَالِحًا اللہ کی قسم ! جوان صالح تھا۔ (تطہیرالجنان) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گزر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی لاش مبارک پر ہوا تو آپ اُن کو دیکھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ ''اَبومحمد اِس جگہ اِس حالت میں پڑے ہیں اور فرمایا کہ اے کاش ! آج سے بیس برس پہلے میں مرگیا ہوتا اور حضرت طلحہکے ہاتھ کو لے کر بار بار چومتے ١ اور فرماتے تھے کہ یہ وہ ہاتھ جس نے رسولِ خدا ۖ کے اُوپر سے مصائب کو دفع کیا ہے۔'' ( تطہیرالجنان) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا جب آخری وقت تھا تو ایک شخص اُن کے پاس سے گزر رہاتھا اُس سے اُنہوں نے دریافت کیاکہ تو کس لشکر کا آدمی ہے ؟ اُس نے کہا اَمیر المومنین علی کے لشکر کا، اُس سے حضرت طلحہ نے کہا اچھاہاتھ لاؤ میں تمہارے ہاتھ پر حضرت علی کے لیے بیعت کروں چنانچہ بیعت کے بعد جان بحق ہوگئے۔ اُس شخص نے یہ واقعہ حضرت علی سے آکر بیان کیا تو آپ نے تکبیر پڑھی اور فرمایا کہ خدا نے طلحہ کو جنت میں بغیر میری بیعت کے لے جانانہیں چاہا۔( اِزالة الخفاء ) ١ اُحد کی لڑائی میں ایک موقع پر رسولِ خدا ۖ کافروں کے نرغے میں گھر گئے۔ اُس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے سوا کوئی نہ تھا چاروں طرف سے تیر کی بارش تھی اور حضرت طلحہ اُن تیروں کو اپنی سپر سے روک رہے تھے، یکایک سپراُن کے ہاتھ سے گرگئی تو اُنہوں نے خیال کیا کہ جتنی دیر میں سپر اُٹھائوں گا نہ معلوم کتنے تیررسولِ خدا ۖ پر آجائیں گے لہٰذا اپنے ہاتھ پر اُنہوں نے تیروں کو روکنا شروع کردیا جس سے وہ ہاتھ بالکل شل ہوگیا، اَخیر عمر تک اُس ہاتھ نے کام نہیں دیا اُسی ہاتھ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ چومتے تھے۔