ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2014 |
اكستان |
|
الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْآنِ)کہ ہم نے نہیں کیا اِس دِکھاوے کو جو آپ نے دیکھا اور بُر ا درخت مگر لوگوں کے اِمتحان کے لیے۔ اہل ِ زیغ اور اِلحاد نے جس طرح ''شریک ''کی مخلوط روایت سے اِستدلال کیا اِسی طرح اِس آیت سے بھی اِستدلال کیا کہ قصہ معراج ''منامی'' واقعہ ہے کیونکہ معراج کے واقعہ کے لیے آیت ِ مذکور میں لفظ رؤیا اِستعمال کیا گیا ہے، وہ خواب کے معنی میں ہے۔ یہ اِستدلال بھی غلط ہے، اِس وجہ سے کہ یہ لفظ دِکھاوے کے معنی میں عربی زبان میں اِستعمال ہوتا ہے خواہ خواب میں دیکھنا ہو یا بیداری میں ہو۔ اِمام ِ لغت صاحب ِقاموس نے تصریح کی ہے کہ لفظ رؤیا جسم کی آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں آتا ہے نیز شعرائے قدیم میں سے'' راعی'' نے ''رؤیا ''کو آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں اِستعمال کیا ہے وہ شکاری کی تعریف کر کے لکھتا ہے وَکَبَّرَ لِلرُّؤْیَا وَ ھَشَّ فُؤَادُہ وَ بَشَّرَ قَلْبًا کَانَ جَمًّا بَلَابِلُہ ''شکاری نے شکار کو دیکھ کر اللہ اکبر کہا اور اُس کا دِل خوش ہوا اور ایسے دِل کو خوشخبری سنائی جس کی پریشانیاں بہت تھیں۔'' اِس شعر میں جسمانی طور پر دیکھنے کے لیے لفظ رؤیا کو اِستعمال کیا گیا ہے۔ متنبی شاعر نے بھی اِسی معنی میں ''رؤیا'' کو اِستعمال کیا ہے وہ اپنے ممدوح بدر بن عمار کی تعریف میں کہتے ہیں مَضَی الَّیْلُ وَالْفَضْلُ الَّذِیْ لَکَ لَا یَمْضِیْ َورُؤیَاکَ اَحْلٰی فِی الْعُیُوْنِ مِنَ الْغَمْصِ ''رات ختم ہوئی اور تیری خوبی ختم نہیں ہوتی۔ تیرا دیکھنا آنکھوں میں نیند سے زیادہ شیریں ہے۔'' یہاں لفظ رؤیا بیداری کی حالت میں اِستعمال ہوا۔ اِن دلائل سے قطع نظر اگر لفظ رؤیا خواب اور بیداری دونوں حالتوں کے دیکھنے کے لیے مشترک ہے تو خود قرآن نے اِس کے بیداری کی حالت