ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
تھی ،تقریبًا ایک فرلانگ تک سرخ کپڑے کا فرش بچھا دیا کہ حضرت کی کاراِس فرش پر ہو کر گزرے گی (ایسا اِستقبال وہ اپنی رسم کے مطابق اَپنے سب سے بڑے پیر کا کیا کرتے ہیں) ۔ (٣٢) اِشاعت ِ علم میں آپ کے تلامیذ کی تعداد بھی لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حضرت اَپنی شہرت و مقبولیت اَور رُجوع کے اِعتبار سے اگرچہ متاخر ہیں لیکن رُتبةً آپ حضراتِ متقدمین کی جماعت میں ہیں۔ بلاشبہ آپ اُس زمانے میں اِس حدیث کا مصداق تھے۔ یُوْشِکُ اَنْ یَّضْرِبَ النَّاسُ اَکْبَادَ الْاِبِلِ یَطْلُبُوْنَ الْعِلْمَ فَلَا یَجِدُوْنَ اَحَدًا اَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِیْنَةِ۔(سنن ترمذی رقم الحدیث ٢٦٨٠) ''عنقریب لوگ دُور دَراز سے علم ِ دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے پس وہ عالِم مدینہ سے بڑھ کر کسی کو عالم نہ پائیں گے۔ '' متقدمین میں اِمام مالک رحمة اللہ علیہ کواِس حدیث کا مصداق بتایا جاتا ہے متاخرین میں حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ اِس حدیث کے مصداق ہیں اِس لیے کہ آپ عالم ِ مدینہ بھی ہیں اَور اَپنے زمانے کے تمام علماء ، طلباء ،صلحاء اَور عوام کامرجع بھی۔ (٣٣) مولانا حبیب الرحمن صاحب سیوہاروی فرماتے ہیں کہ والد صاحب مرحوم سے حضرت کے بہت گہرے تعلقات تھے، جب والد صاحب کا آخری وقت ہوا تو حضرت تشریف لائے، والد صاحب نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت ! میرے اُوپر توجہ فرمائیے ۔حضرت تھوڑی دیر کے لیے مراقب ہوئے۔ والد صاحب فرماتے تھے کہ اُسی وقت میرا قلب جاری ہو گیا میں نے اُس وقت ایسا محسوس کیا کہ میرے مکان کے دَرو دِیوار غرضیکہ ہر چیز ذکر اللہ میں مشغول ہے میں ہر چیز سے اللہ اللہ کی صدائیں محسوس کر رہا تھا۔ (٣٤) آنحضرت ۖ کے متعلق منقول ہے کہ آپ صحابہ کرام کے مجمع میں سب سے نمایاں اَور بلند معلوم ہوتے تھے حالانکہ آپ متوسط الاقامت تھے۔ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق ہندوستان کا ہرباشندہ جانتا ہے اَور ہزارہا مرتبہ کا اَپنا تجربہ ہے کہ بڑے سے بڑے ہجوم اَور اسٹیشن پر