Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

45 - 65
تھی ،تقریبًا ایک فرلانگ تک سرخ کپڑے کا فرش بچھا دیا کہ حضرت کی کاراِس فرش پر ہو کر گزرے گی (ایسا اِستقبال وہ اپنی رسم کے مطابق اَپنے سب سے بڑے پیر کا کیا کرتے ہیں) ۔
(٣٢)  اِشاعت ِ علم میں آپ کے تلامیذ کی تعداد بھی لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حضرت اَپنی شہرت و مقبولیت اَور رُجوع کے اِعتبار سے اگرچہ متاخر ہیں لیکن رُتبةً آپ حضراتِ متقدمین کی جماعت میں ہیں۔ بلاشبہ آپ اُس زمانے میں اِس حدیث کا مصداق تھے۔
 یُوْشِکُ اَنْ یَّضْرِبَ النَّاسُ اَکْبَادَ الْاِبِلِ یَطْلُبُوْنَ الْعِلْمَ فَلَا یَجِدُوْنَ اَحَدًا اَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِیْنَةِ۔(سنن ترمذی رقم الحدیث ٢٦٨٠)
 ''عنقریب لوگ دُور دَراز سے علم ِ دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے پس وہ عالِم مدینہ سے بڑھ کر کسی کو عالم نہ پائیں گے۔ ''
 متقدمین میں اِمام مالک رحمة اللہ علیہ کواِس حدیث کا مصداق بتایا جاتا ہے متاخرین میں حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ اِس حدیث کے مصداق ہیں اِس لیے کہ آپ عالم ِ مدینہ بھی ہیں اَور اَپنے زمانے کے تمام علماء ، طلباء ،صلحاء اَور عوام کامرجع بھی۔ 
(٣٣)  مولانا حبیب الرحمن صاحب سیوہاروی فرماتے ہیں کہ والد صاحب مرحوم سے حضرت کے بہت گہرے تعلقات تھے، جب والد صاحب کا آخری وقت ہوا تو حضرت   تشریف لائے، والد صاحب نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت  !  میرے اُوپر توجہ فرمائیے ۔حضرت   تھوڑی دیر کے لیے مراقب ہوئے۔ والد صاحب فرماتے تھے کہ اُسی وقت میرا قلب جاری ہو گیا میں نے اُس وقت ایسا محسوس کیا کہ میرے مکان کے دَرو دِیوار غرضیکہ ہر چیز ذکر اللہ میں مشغول ہے میں ہر چیز سے اللہ اللہ کی صدائیں محسوس کر رہا تھا۔ 
(٣٤)  آنحضرت  ۖ  کے متعلق منقول ہے کہ آپ صحابہ کرام کے مجمع میں سب سے نمایاں اَور بلند معلوم ہوتے تھے حالانکہ آپ متوسط الاقامت تھے۔ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق ہندوستان کا ہرباشندہ جانتا ہے اَور ہزارہا مرتبہ کا اَپنا تجربہ ہے کہ بڑے سے بڑے ہجوم اَور اسٹیشن پر
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter