Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

44 - 65
 (٢٨)  جناب ماسٹر سیّد اَحمد شاہ صاحب مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی روایت نقل کرتے ہیں اُنہوں نے فرمایاکہ ایک مرتبہ حضرت حج کے لیے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ملاقات کے لیے اسٹیشن لکھنؤ پر حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا کہ آپ حج کے لیے نہیں چلتے  ؟  میں نے عرض کیا دُعا کیجئے اِس وقت تو کوئی سبب ایسا نظر نہیں آتا کہ میں حج کا تصور کروں بہرحال حضرت اَبھی بمبئی پہنچے تھے کہ  اللہ تعالیٰ نے ایسا اِنتظام کیا میرے پاس اِتنے روپے ہو گئے جو سفرِ حج کے لیے کافی تھے۔ چنانچہ فورًا ہی میں اِنتظام ِ سفر کر کے حضرت سے جا ملا اَور جا کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دُعا قبول فرمالی۔
(٢٩)  گزشتہ سال ١٩٧٦ھ میں جب بانسکنڈی (آسام) سے دیوبند کے لیے روانہ  ہوئے تو راستہ میں مختلف مقامات پر ٹھہرنا ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آپ سے بیعت ہوئے  حتی کہ عاصم گنج (آسام) میں تو بیک وقت ایک مجلس میں آٹھ ہزار مسلمان آپ سے بیعت ہوئے۔ تاریخ تصوف کا یہ سب سے پہلا واقعہ ہے ۔ کسی بزرگ کے حلقہ عقیدت میں ایک وقت میں ایک مجلس میں اِتنے آدمی آج تک داخل نہیں ہوئے۔ 
(٣٠)  ١٩٤٧ء کے بعد آپ نے سلوک اَور تصوف کی طرف توجہ فرمائی ہے لیکن اِتنی قلیل مدت میں ١٦٦ خلفاء اَور مجاز بنادیے، تاریخ ِتصوف میں اِس کی نظیریں بہت ہی کم ملیں گی وہ بھی متقدمین کے یہاںہیں متاخرین کے یہاں اِس کی مثال نہیں ہے۔ 
(٣١)  سنین ِ ماضیہ میں بہت ہی کم ایسی ہستیاں گزری ہیں کہ جن کو اِتنی مقبولیت عامہ حاصل رہی ہو یا ہر فرقہ اَور مسلک نے اَپنا مقتداء تسلیم کیا ہو ۔اِس سلسلہ میں متاخرین میں حضرت شیخ الاسلام کی ذات ہی پیش کی جا سکتی ہے کہ جن کے معتقد ہر مذہب میں موجود ہیں اَور آپ کو اَپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں، اہل ِ بدعت کہ جنہوں نے علماء ِ دیوبند کوہمیشہ کافر کہاہے مگر حضرت کے وہ بھی معتقد ہیں۔چنانچہ مولانا عبدالوحید خاں صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سورت کا دَورہ فرمارہے تھے کہ راستہ میں اہل ِبدعت کے ایک گاؤں والوں نے (جن میںبڑے بڑے پیر بھی تھے) جب حضرت کی آمد کی خبر سنی کہ حضرت اِس طرف سے گزر رہے ہیں تو اُس سڑک پر کہ جس طرف سے حضرت کی کار گزرنے والی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter