Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

اكستان

46 - 65
گاڑی ٹھہر نے سے پہلے یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ حضرت فلاں ڈبہ میں ہیں، یقینًا حضرت اُس زمانے کے قطب العالم تھے۔ 
(٣٥)  رمضان المبارک کے موقع پر بارہا ایسا ہوا ہے کہ جس دِن آپ سورۂ اِنا اَنزلنا وتروں میں تلاوت فرماتے اُسی دِن شب ِقدر ہوتی تھی اَور عید کی چاند رات کے بارے میں بھی بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جس دِن چاند رات ہوتی تھی حضرت اُسی دِن صبح سے عید کا اِنتظام شروع کردیتے تھے اَور ایک دِن پیشتر قرآن شریف ختم کردیتے تھے چاہے ٢٩ تاریخ کیوں نہ ہو۔ حضرت کے اِس طریقہ کی بناء پر حضرت   کا ہر خانقاہی بتاسکتا تھا کہ آج چاند رات ہے۔ 
 (٣٦)  جس سال حضرتنے آخری حج کااِرادہ کیا تھا اُس سال بظاہر کوئی ایسا سبب نہ تھا کہ جس کی وجہ سے اِتنے اَخراجات کااِنتظام ہوتا لیکن جب سفر کا زمانہ قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ ہی کے اِخرجات کا اِنتظام کیا بلکہ آپ کے ہمراہ آپ کے صرفہ سے تقریبًا ایک درجن آدمی سعادت ِ حج سے بہرہ وَر ہوئے۔ 
(٣٧)  رُستم  ١  دھوبی بجنوری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت کے یہاں سوا مہینے تک رہا۔ جب رُخصت ہو کر سہارنپور کے اِسٹیشن پر آیا تو گاڑی میں جگہ نہ ملتی تھی چنانچہ میں پریشان تھا کہ  کیا کروں۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب جوکہ چوغہ پہنے ہوئے تھے میرے پیچھے سے آئے اَور فرمایا کہ بجنور کیوں نہیں جاتے ہو ،میں نے عرض کیا مجھے کم دکھائی دیتا ہے بیٹھنے سے معذور ہوں بس اِتنا کہنا تھا کہ آدمی نے مجھے گود میںاُٹھا کر گاڑی میں بٹھادیا۔ (معلوم ہونا چاہیے کہ یہ موسم سردی کا تھا)
(٣٨)  مولوی حبیب صاحب حبیب گنجی بیان فرماتے ہیںکہ ہر رمضان المبارک کے موقع  پر آپ سلہٹ والوں کے اِصرار پر سلہٹ تشریف لاتے تھے۔ اِس سلسلہ میں سلہٹ کے ایک دُکاندار سے چندہ لینے کے لیے بات چیت ہوئی، اُس نے ترش روئی سے گیارہ روپیہ چندہ دیا اَور یہ لفظ کہا کہ یہ کیا ٹیکس ہے۔ بہرحال وصول شدہ چندہ کی ایک رقم حضرت کے پاس بھیج دی گئی۔ چند ہی روز بعد  اُس 
   ١   یہ ایک صوفی اَور مجذوب قسم کے آدمی ہیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter