ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
اكستان |
|
گاڑی ٹھہر نے سے پہلے یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ حضرت فلاں ڈبہ میں ہیں، یقینًا حضرت اُس زمانے کے قطب العالم تھے۔ (٣٥) رمضان المبارک کے موقع پر بارہا ایسا ہوا ہے کہ جس دِن آپ سورۂ اِنا اَنزلنا وتروں میں تلاوت فرماتے اُسی دِن شب ِقدر ہوتی تھی اَور عید کی چاند رات کے بارے میں بھی بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جس دِن چاند رات ہوتی تھی حضرت اُسی دِن صبح سے عید کا اِنتظام شروع کردیتے تھے اَور ایک دِن پیشتر قرآن شریف ختم کردیتے تھے چاہے ٢٩ تاریخ کیوں نہ ہو۔ حضرت کے اِس طریقہ کی بناء پر حضرت کا ہر خانقاہی بتاسکتا تھا کہ آج چاند رات ہے۔ (٣٦) جس سال حضرتنے آخری حج کااِرادہ کیا تھا اُس سال بظاہر کوئی ایسا سبب نہ تھا کہ جس کی وجہ سے اِتنے اَخراجات کااِنتظام ہوتا لیکن جب سفر کا زمانہ قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ ہی کے اِخرجات کا اِنتظام کیا بلکہ آپ کے ہمراہ آپ کے صرفہ سے تقریبًا ایک درجن آدمی سعادت ِ حج سے بہرہ وَر ہوئے۔ (٣٧) رُستم ١ دھوبی بجنوری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت کے یہاں سوا مہینے تک رہا۔ جب رُخصت ہو کر سہارنپور کے اِسٹیشن پر آیا تو گاڑی میں جگہ نہ ملتی تھی چنانچہ میں پریشان تھا کہ کیا کروں۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب جوکہ چوغہ پہنے ہوئے تھے میرے پیچھے سے آئے اَور فرمایا کہ بجنور کیوں نہیں جاتے ہو ،میں نے عرض کیا مجھے کم دکھائی دیتا ہے بیٹھنے سے معذور ہوں بس اِتنا کہنا تھا کہ آدمی نے مجھے گود میںاُٹھا کر گاڑی میں بٹھادیا۔ (معلوم ہونا چاہیے کہ یہ موسم سردی کا تھا) (٣٨) مولوی حبیب صاحب حبیب گنجی بیان فرماتے ہیںکہ ہر رمضان المبارک کے موقع پر آپ سلہٹ والوں کے اِصرار پر سلہٹ تشریف لاتے تھے۔ اِس سلسلہ میں سلہٹ کے ایک دُکاندار سے چندہ لینے کے لیے بات چیت ہوئی، اُس نے ترش روئی سے گیارہ روپیہ چندہ دیا اَور یہ لفظ کہا کہ یہ کیا ٹیکس ہے۔ بہرحال وصول شدہ چندہ کی ایک رقم حضرت کے پاس بھیج دی گئی۔ چند ہی روز بعد اُس ١ یہ ایک صوفی اَور مجذوب قسم کے آدمی ہیں۔