ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
اكستان |
|
اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : جب ہم شریعت کے مقاصد اَور اِقتصاد اِسلامی کے اہداف کی نظر سے معاملہ کو دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ وہ صکوک جن میں سودی سندات کی بڑی بڑی خصوصیتیں موجود ہیں وہ مکمل طور پر اُن مقاصد و اہداف کے مخالف ہیں۔ وہ بڑا ہدف جس کی وجہ سے سود حرام ہوا ہے یہ ہے کہ تجارت و صنعت کے عمل سے جو نفع حاصل ہو وہ تمام شرکاء میں عادِلانہ بنیاد پر تقسیم ہو جبکہ مذکورہ صکوک کی آلیت (instrumentation) اِس ہدف کو سرے سے ڈھا دیتی ہے اَور صکوک کو اُن کے اِقتصادی نتائج کے اِعتبار سے سودی سندات کے مشابہ بنادیتی ہے۔ مصارفِ اِسلام (Islamic Financing) کی اِیجاد اِس لیے نہیں ہے کہ وہ اَپنے تمام عملیات اَور نتائج میں سودی نظام کے ساتھ ساتھ چلے۔ مصارفِ اِسلامی کا اَصل مقصد اِس کے بجائے یہ ہے کہ ہم بتدریج تجارتی، مالی اَور سرمایہ کاری جیسی عملیات کے ایسے اُفق کھولیں جن میں عدل اِجتماعی اُن مبادی کے مطابق سیادت کرے جن کو شریعت ِ اِسلامی نے وضع کیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل تدریج کا محتاج ہے لیکن حقیقی تدریج کے تصور کے لیے ایسا لائحہ عمل ضروری ہے جس میں مختلف مراحل کو دِقت نظر اَور وضاحت ِ فکر کے ساتھ بیان کیا گیا ہو اَور اُن مراحل کی طرف سفر مسلسل اَور مستمر ہو۔ تدریج کا یہ مطلب نہیں کہ غیر متعین مدت کے لیے ایک ہی جگہ پر کھڑے رہیں۔ اِس میںبھی کوئی شک نہیں کہ رقابت ِ شرعیہ اَور مجالس ِ فقہیہ نے مصارفِ اِسلامیہ کے لیے بعض ایسے عملیات یعنی ایسی سر گرمیوں کی اِجازت دی ہے جو حقیقی سر گرمیوں کے مقابلہ میں حیلوں کے زیادہ مشابہ ہیں لیکن یہ اِجازت اِس لیے تھی کہ مشکل حالات میں مصرفِ اِسلامی Islamic Financing کی گاڑی کو چلایا جائے جبکہ اُس وقت مصارف ِ اِسلامیہ کے اِدارے اِنتہائی کم تعداد میں تھے اَور یہ بات تو گو یا طے شدہ تھی کہ مصارفِ اِسلامیہ کے اِدارے اِن حقیقی سر گرمیوں کی طرف