Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

اكستان

57 - 65
اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام  : 
جب ہم شریعت کے مقاصد اَور اِقتصاد اِسلامی کے اہداف کی نظر سے معاملہ کو دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ وہ صکوک جن میں سودی سندات کی بڑی بڑی خصوصیتیں موجود ہیں وہ مکمل طور پر اُن مقاصد و اہداف کے مخالف ہیں۔ 
وہ بڑا ہدف جس کی وجہ سے سود حرام ہوا ہے یہ ہے کہ تجارت و صنعت کے عمل سے جو نفع حاصل  ہو وہ تمام شرکاء میں عادِلانہ بنیاد پر تقسیم ہو جبکہ مذکورہ صکوک کی آلیت (instrumentation) اِس ہدف کو سرے سے ڈھا دیتی ہے اَور صکوک کو اُن کے اِقتصادی نتائج کے اِعتبار سے سودی سندات کے مشابہ بنادیتی ہے۔ 
مصارفِ اِسلام (Islamic Financing) کی اِیجاد اِس لیے نہیں ہے کہ وہ اَپنے تمام عملیات اَور نتائج میں سودی نظام کے ساتھ ساتھ چلے۔ مصارفِ اِسلامی کا اَصل مقصد اِس کے بجائے یہ ہے کہ ہم بتدریج تجارتی، مالی اَور سرمایہ کاری جیسی عملیات کے ایسے اُفق کھولیں جن میں عدل اِجتماعی اُن مبادی کے مطابق سیادت کرے جن کو شریعت ِ اِسلامی نے وضع کیا ہے۔ 
اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل تدریج کا محتاج ہے لیکن حقیقی تدریج کے تصور کے لیے ایسا لائحہ عمل ضروری ہے جس میں مختلف مراحل کو دِقت نظر اَور وضاحت ِ فکر کے ساتھ بیان کیا گیا ہو اَور اُن مراحل کی طرف سفر مسلسل اَور مستمر ہو۔ تدریج کا یہ مطلب نہیں کہ غیر متعین مدت کے لیے ایک ہی جگہ پر کھڑے رہیں۔ اِس میںبھی کوئی شک نہیں کہ رقابت ِ شرعیہ اَور مجالس ِ فقہیہ نے مصارفِ اِسلامیہ کے لیے بعض ایسے عملیات یعنی ایسی سر گرمیوں کی اِجازت دی ہے جو حقیقی سر گرمیوں کے مقابلہ میں حیلوں کے زیادہ مشابہ ہیں لیکن یہ اِجازت اِس لیے تھی کہ مشکل حالات میں مصرفِ اِسلامی Islamic Financing   کی گاڑی کو چلایا جائے جبکہ اُس وقت مصارف ِ اِسلامیہ کے اِدارے اِنتہائی کم تعداد میں تھے اَور یہ بات تو گو یا طے شدہ تھی کہ مصارفِ اِسلامیہ کے اِدارے اِن حقیقی سر گرمیوں کی طرف
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter