ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
تب اُن کو اِحساس ہوا کہ یہ نتیجہ گستاخانہ لب و لہجہ کا ہے جس کو اُنہوںنے تراویخ میں لقمہ دیتے وقت اِختیار کر رکھا تھا۔ (٢٥) ایک مرتبہ دارُالعلوم دیوبند میں چند طلباء نے اہتمام کے سامنے بیٹھ کر بھوک ہڑتال شروع کردی، حضرت کو خبر ہوئی تو تشریف لائے اَور اُن لوگوں کو منع کیا اَور فرمایا آپ لوگ یہ طریقہ اِختیار نہ کریں جو آپ لوگوں کا مطالبہ ہے ہم اُس کو پورا کریں گے لیکن اُن حضرات نے نہ مانا اَوربھوک ہڑ تال کو جاری رکھا ۔اُن سلہٹی طلباء کی رہنمائی دو پنجابی طالب ِعلم بھی کر رہے تھے اَور اَپنے جوش اَور دِیوانگی میں یہاں تک کہہ گئے تھے کہ ہم دارُالعلوم کی اِینٹ سے اِینٹ بجادیں گے بہرحال معاملہ جوں توں رفع ہو گیا۔ حضرت شیخ الاسلام نے دارُ الحدیث میں ایک جلسہ کیا اَور فرمایا مجھے اِس تحریک میں حصہ لینے والوں سے سخت تکلیف پہنچی ہے میں اُن کے حق میں بدعا تو نہیں کرتا ہاں اُن لوگوں نے اچھا نہیں کیا۔ بہرحال آج بھی وہ حضرات جنہوں نے اُس تحریک میں حصہ لیا تھا حیات ہیں علم سے یکسر محروم ہیں، نام و نہاد مولوی اگرچہ ہوگئے ہیں لیکن علمی حالت اُن کی درست نہیں ہے۔ (٢٦) مولانا ظل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دارُالعلوم میں طلباء اَور علماء کا ایک جلسہ ہوا ایک طالب علم نے جوش میں آکر حضرت مولاناعثمانی کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہہ دیے۔ حضرت نے فورًا ہی اُس کو ڈانٹا اَور منع کیالیکن وہ باز نہ آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نے فرمایا جا تو علم سے محروم ہو گیا۔ حضرت مولانا ظل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ اُس طالب علم کو میں نے دہلی میں دیکھا ہے سر پر دِیوانوں کی طرح خاک اُڑاتاپھرتا تھا۔ (٢٧) جناب حبیب اَحمد صاحب بجنوری فرماتے ہیں کہ میں چند سال سے ایک اِمتحان میں شرکت کر رہا تھا لیکن فیل ہوجاتا تھا، میں نے حتی الامکان کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ چنانچہ میں نے حضرت کی خدمت میں لکھا توحضرت نے ایک دُعا پڑھنے کے لیے کہا اَور فرمایا میں دُعا کرتا ہوں۔ چنانچہ اُس سال میں نے بالکل کتاب اُٹھا کر دیکھی تک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اَور حضرت کی دُعا کی برکت سے سب سے اَعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوا۔