Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

43 - 65
تب اُن کو اِحساس ہوا کہ یہ نتیجہ گستاخانہ لب و لہجہ کا ہے جس کو اُنہوںنے تراویخ میں لقمہ دیتے وقت اِختیار کر رکھا تھا۔ 
(٢٥)  ایک مرتبہ دارُالعلوم دیوبند میں چند طلباء نے اہتمام کے سامنے بیٹھ کر بھوک ہڑتال شروع کردی، حضرت کو خبر ہوئی تو تشریف لائے اَور اُن لوگوں کو منع کیا اَور فرمایا آپ لوگ یہ طریقہ اِختیار نہ کریں جو آپ لوگوں کا مطالبہ ہے ہم اُس کو پورا کریں گے لیکن اُن حضرات نے نہ مانا اَوربھوک ہڑ تال کو جاری رکھا ۔اُن سلہٹی طلباء کی رہنمائی دو پنجابی طالب ِعلم بھی کر رہے تھے اَور اَپنے جوش اَور دِیوانگی میں یہاں تک کہہ گئے تھے کہ ہم دارُالعلوم کی اِینٹ سے اِینٹ بجادیں گے بہرحال معاملہ  جوں توں رفع ہو گیا۔ حضرت شیخ الاسلام نے دارُ الحدیث میں ایک جلسہ کیا اَور فرمایا مجھے اِس تحریک  میں حصہ لینے والوں سے سخت تکلیف پہنچی ہے میں اُن کے حق میں بدعا تو نہیں کرتا ہاں اُن لوگوں نے اچھا نہیں کیا۔ بہرحال آج بھی وہ حضرات جنہوں نے اُس تحریک میں حصہ لیا تھا حیات ہیں علم سے یکسر محروم ہیں، نام و نہاد مولوی اگرچہ ہوگئے ہیں لیکن علمی حالت اُن کی درست نہیں ہے۔ 
(٢٦)  مولانا ظل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دارُالعلوم میں طلباء اَور علماء کا  ایک جلسہ ہوا ایک طالب علم نے جوش میں آکر حضرت مولاناعثمانی   کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہہ دیے۔ حضرت نے فورًا ہی اُس کو ڈانٹا اَور منع کیالیکن وہ باز نہ آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نے فرمایا جا تو علم سے محروم ہو گیا۔ حضرت مولانا ظل الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ اُس طالب علم کو میں نے دہلی میں دیکھا ہے سر پر دِیوانوں کی طرح خاک اُڑاتاپھرتا تھا۔ 
(٢٧)  جناب حبیب اَحمد صاحب بجنوری فرماتے ہیں کہ میں چند سال سے ایک اِمتحان میں شرکت کر رہا تھا لیکن فیل ہوجاتا تھا، میں نے حتی الامکان کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ چنانچہ میں نے حضرت کی خدمت میں لکھا توحضرت نے ایک دُعا پڑھنے کے لیے کہا اَور فرمایا میں دُعا کرتا ہوں۔ چنانچہ اُس سال میں نے بالکل کتاب اُٹھا کر دیکھی تک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اَور حضرت کی دُعا کی برکت سے سب سے اَعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوا۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter