ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٢) مولوی شمس الدین : اِبتداء ً آپ بدعات کی طرف مائل تھے دیوبند میں سیّد صاحب کے ورُود کی خبر سن کر مخالفت کے جوش میں ایک ہجو لکھی جو اُسی وقت بچہ بچہ کی زبان پر چڑھ گئی۔ ایک مرتبہ سیّد صاحب کے دَورانِ قیام میں یہ دیکھنے کے لیے قاضی مسجد میں آئے کہ آخر سیّد صاحب کی طرف لوگوں کا اِس قدر رُجوع کیوں ہے ١ مسجد عقیدت مندوں سے بھری ہوئی تھی، مولوی صاحب مجمع میںایک طرف بیٹھ گئے۔ سیّد صاحب نے فورًا اُن کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا ''آپ ہی نے ہماری ہجو میں اَشعار لکھے ہیں۔'' سیّد صاحب نے یہ الفاظ کچھ ایسے اَندازمیں فرمائے کہ مولوی صاحب تڑپ گئے اَور معذرت کے بعد عرض کیا کہ اِس گستاخی پر شرمند ہ ہوں خدا کے لیے معاف کر دیجیے اَور حلقۂ بیعت میں داخل فرما لیجیے۔ سیّد صاحب نے بیعت کر لیا اَور مرید ہو کر بالکل سیّد صاحب کے رنگ میں ڈوب گئے۔ بعد کے دَور میں اُن کے صاحبزادے مولانا عبدالخالق صاحب نے دیوبند کی جامع مسجد کی تعمیر میں بہت کام کیا۔ جامع مسجد دیوبند کی اِمامت و خطابت اِن ہی کی اَولاد میں چلی آرہی ہے۔ (٣) شیخ رجب علی بن خرد مند : دیوان لطف اللہ عثمانی کی اَولاد میں ہیں جنکا تذکرہ گزر چکا ہے۔ (٤ ) مولوی بشیر اَحمد اِبن شیخ غریب اللہ : یہ بھی دیوان لطف اللہ کی اَولاد میں ہیں۔ اِن کے گھرانے میں اِیسٹ اِنڈیا کمپنی کے عہد ِحکومت تک مُنصفی کا عہدہ قائم رہا۔ (٥) مولوی فریدالدین اِبن شیخ محمود بخش : دیوان لطف اللہ کی اَولاد میں تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز قدس سرہ سے تحصیل ِعلوم کی تھی، مزار مبارک دارُالعلوم کے شمالی دروازہ کے سامنے میدان میں ہے ،دارُالعلوم کے دُوسرے مہتمم مولانا رفیع الدین صاحب آپ کے صاحبزادے تھے۔ ١ اِس آخری دَور میں حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد مدنی قدس سرہ سے بیک وقت بیعت ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہزار تک شمار کی گئی ہے، لاؤڈ سپیکر پر بیعت فرماتے تھے لیکن حضرت سیّد صاحب کے دست ِ مبارک پر اُن کے اِن دَوروں میں اُن سے بیک وقت بیعت ہونے والوں کی تعداد دس ہزار تک بتلائی گئی ہے۔ اِن دونوں مشائخ کے دَرمیانی دَور میں اِس کی نظیر نہیں ملتی سچ فرمایا گیا یُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ اَور یہ حضرات اِسی کی روشن مثال تھے۔ (حامد میاں غفرلہ )