Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

37 - 65
(٦)  شیخ بلند بخت  :  مولوی فرید الدین رحمة اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے۔شیخ بلند بخت  کے دو چھوٹے بھائی مقصود علی اَور سیّد اَحمد بھی سیّد صاحب کے ساتھ شریک ِجہاد تھے۔ سیّد صاحب     اہم معرکوں کو سر کرنے کے لیے اِن کو مامور فرماتے تھے چنانچہ کوہ ِکنبرڑی کی جنگ میں لڑائی کا نقشہ کچھ بگڑ گیا تھا مگر شیخ بلند بخت نے اپنی عسکری مہارت اَور جرأت و ہمت سے جنگ جیت لی۔ 
ایک مرتبہ مولانا محمد اِسماعیل شہید نے اپنی جگہ اِن کو جانشین بنایا تھا۔ اِن ہی اَوصاف ِ عالیہ اَور حسن ِ تدبیر کی بناپر یہ سیّد صاحب کی مجلس ِ مشاورت کے رُکن بھی تھے۔ اَور فرمایا کرتے تھے کہ
 ''ڈر موت کے خوف سے پیدا ہوتا ہے ہم اپنی جانیں خدا کی راہ میں قربان کر چکے ہیں بس ہمیں کیا ڈر ہے۔''
 اُن کی مہر پر یہ الفاظ کندہ تھے  :	بفضل خدا گشت بختم بلند
صوبہ سرحد میں چھتریائی کی گڑھی پر حملے میں شیخ بلند بخت کے بھائی مقصود علی نے دُوسرے چند غازیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا جب اُن کو بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو نہایت صبر و ضبط سے فرمایا : 
''الحمدللہ  !  میرا بھائی جو مراد لے کر آیا تھا وہ پوری ہوگئی ہم سب کو اللہ تعالیٰ شہادت نصیب کرے۔ '' 
چنانچہ معرکۂ بالاکوٹ میں سیّد صاحب کے ساتھ اُن کی یہ آرزو پوری ہوگئی، گولی کھا کر شہادت سے سرفراز ہوئے۔  ١ 
  ١  سیّد صاحب کے تذکرہ نگاروں نے یہ نام علی محمد لکھا ہے لیکن اُن کے خاندانی شجرہ کے مطابق صحیح نام مقصود علی ہے۔  علی محمد شیخ بلند بخت کے کوئی بھائی نہیں تھے۔ تاریخ دیوبند میں مجاہدین کے شوقِ جہاد کا اَندازہ اِس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ اَکوڑہ میں سب سے پہلی جنگ کے موقع پر ایک مجاہد عبدالمجید خاں جہاں آبادی بیمار تھے۔ سیّد صاحب نے لشکر ترتیب دیتے وقت اِن کا نام خارج کردیا، اِنہیں معلوم ہوا تو خود حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ نے میرا نام کیوں نکال دیا ؟  سیّد صاحب نے فرمایا تم بیمار ہو ۔بولے آج پہلا موقع ہے جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد قائم ہو رہی ہے آپ مجھے ضرور  شامل رکھیں،اُن کے اِصرار پر سیّد صاحب نے اِجازت دے دی۔ (سیّد اَحمد شہید  جلد دوم  ص ٣٠١) 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter