ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٦) شیخ بلند بخت : مولوی فرید الدین رحمة اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے۔شیخ بلند بخت کے دو چھوٹے بھائی مقصود علی اَور سیّد اَحمد بھی سیّد صاحب کے ساتھ شریک ِجہاد تھے۔ سیّد صاحب اہم معرکوں کو سر کرنے کے لیے اِن کو مامور فرماتے تھے چنانچہ کوہ ِکنبرڑی کی جنگ میں لڑائی کا نقشہ کچھ بگڑ گیا تھا مگر شیخ بلند بخت نے اپنی عسکری مہارت اَور جرأت و ہمت سے جنگ جیت لی۔ ایک مرتبہ مولانا محمد اِسماعیل شہید نے اپنی جگہ اِن کو جانشین بنایا تھا۔ اِن ہی اَوصاف ِ عالیہ اَور حسن ِ تدبیر کی بناپر یہ سیّد صاحب کی مجلس ِ مشاورت کے رُکن بھی تھے۔ اَور فرمایا کرتے تھے کہ ''ڈر موت کے خوف سے پیدا ہوتا ہے ہم اپنی جانیں خدا کی راہ میں قربان کر چکے ہیں بس ہمیں کیا ڈر ہے۔'' اُن کی مہر پر یہ الفاظ کندہ تھے : بفضل خدا گشت بختم بلند صوبہ سرحد میں چھتریائی کی گڑھی پر حملے میں شیخ بلند بخت کے بھائی مقصود علی نے دُوسرے چند غازیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا جب اُن کو بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو نہایت صبر و ضبط سے فرمایا : ''الحمدللہ ! میرا بھائی جو مراد لے کر آیا تھا وہ پوری ہوگئی ہم سب کو اللہ تعالیٰ شہادت نصیب کرے۔ '' چنانچہ معرکۂ بالاکوٹ میں سیّد صاحب کے ساتھ اُن کی یہ آرزو پوری ہوگئی، گولی کھا کر شہادت سے سرفراز ہوئے۔ ١ ١ سیّد صاحب کے تذکرہ نگاروں نے یہ نام علی محمد لکھا ہے لیکن اُن کے خاندانی شجرہ کے مطابق صحیح نام مقصود علی ہے۔ علی محمد شیخ بلند بخت کے کوئی بھائی نہیں تھے۔ تاریخ دیوبند میں مجاہدین کے شوقِ جہاد کا اَندازہ اِس واقعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ اَکوڑہ میں سب سے پہلی جنگ کے موقع پر ایک مجاہد عبدالمجید خاں جہاں آبادی بیمار تھے۔ سیّد صاحب نے لشکر ترتیب دیتے وقت اِن کا نام خارج کردیا، اِنہیں معلوم ہوا تو خود حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ نے میرا نام کیوں نکال دیا ؟ سیّد صاحب نے فرمایا تم بیمار ہو ۔بولے آج پہلا موقع ہے جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد قائم ہو رہی ہے آپ مجھے ضرور شامل رکھیں،اُن کے اِصرار پر سیّد صاحب نے اِجازت دے دی۔ (سیّد اَحمد شہید جلد دوم ص ٣٠١)