Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

35 - 65
سیّد صاحب نے جب دوآبہ کا دورہ فرمایا تھا تو اُسی وقت دیوبند  ١  کے بڑے خاندانی حضرات آپ کے ساتھ ہوگئے تھے۔ دارُالعلوم دیوبند کے نزدیک جانب ِمشرق قاضی مسجد واقع ہے  اِسی مسجد میں حضرت سیّد صاحب فروکش ہوئے تھے، یہاں دَس روز تک قیام فرمایا۔
 ''سیّد اَحمد شہید'' میں لکھا ہے  :  سیّد صاحب پُھلت (جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحب )کا ننہیالی وطن ہے ،سے مظفر نگر ہوتے ہوئے دیوبند پہنچے، دیوبند سے اِملِیَا (جو دیوبند سے تین میل کے فاصلہ پر جانب ِجنوب واقع ہے) گئے۔ اِن مقامات میں قاضی نجم الدین پندرہ آدمیوں کے ساتھ   سیّد مقبول ،مولوی شمس الدین، قاضی عظیم اللہ، شیخ رجب علی، اُن کے فرزند منور علی ،حافظ عبداللہ ، اُن کے بھائی نظام الدین اَور کریم الدین نیز اُن کے والد اِمام بخش، کرامت حسین، محمد ماہ شیخ چاند، مولوی فریدالدین، مولوی بشیر اللہ ،سیّد محمد حسین وغیرہ اصحاب نے بیعت کی، اِن حضرات میں سے جو حضرات سیّد صاحب کی خدمت میں پیش پیش رہے اُن کے اسمائِ گرامی تو ملتے ہیں لیکن مفصل حالات نہیں ملتے جن حضرات کے حالات معلوم ہوسکے وہ دَرج کیے جاتے ہیں۔ 
(١ )  سیّد مقبول   :  اِن کا پورا نام سیّد مقبول عالم   ٢  ہے۔ دیوبند کے خاندانِ سادات سے تھے۔ اِن کے مورث ِاَعلیٰ بندگی سیّد محمد اِبراہیم ہیں جن کا ذکر مفصل گزر چکا ہے۔ 
   ١  دیوبند کا علاقہ قدیم زمانہ میں ''مدہ دیش'' کہلاتا تھا۔ شمالی ہند کی راجگان کی راج دھانی جب تک ''ہستناپور''  (ضلع میرٹھ) رہی یہ علاقہ اُس کے ماتحت رہا پھر مہا بھارت کی جنگ میں کورو کی شکست کے بعد اَندر پرست (دہلی) کے مہاراجگان کی مملکت میں شامل ہو گیا ۔قدیم اہمیت کی بناء پر بھی شاید میرٹھ کو ہمیشہ چھاؤنی رکھا گیا ہے۔ مسلمانوں کے دَورِ حکومت میں دیوبند وغیرہ کے علاقوں میں اَعلیٰ ترین خاندانوں نے جو صاحب رُوحانیت و علم و فضل تھے آبادی اِختیار کی۔ اَشرف السوانح میں ہے ''جیسے اِس گرد ونواح میں مسلمان شرفا کے بڑے بڑے قصبے ہیں مثلًا دیوبند، گنگوہ، کیرانہ، جھن جھانہ، کاندھلہ اَور پانی پت وغیرہ ویسے ہندوستان میں کہیں اَور نہیں پائے جاتے اَور جتنی دینداری اَور جتنا علم کا چرچا اِن اَطراف میں ہے، اِتنا اَور کہیں نہیں دیکھا گیا اَور جس کثرت سے بڑے بڑے علماء و فضلاء و مشائخ اِس حصہ ملک میں گزرے ہیں اَور موجود ہیں اِتنے اَور کہیں نہیں۔''( اَشرف السوانح  جلد اَوّل  ص ١٥  طبع اَوّل ) 
   ٢  حافظ سیّد مقبول عالم اِبن سیّد محمد عالم اِبن سیّد محمد جمیل اِبن محمد اِسماعیل اِبن سیّد محمداِبراہیم رحمة اللہ علیہم۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter