ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
جاتا اِس لیے آپ نے اَفغانستان کے قریبی حصہ صوبہ سر حد کو منتخب فرمایا وہاں اَفغانستان اَور بخارا و ترکی وغیرہ سے اِمداد کی توقع تھی۔ چنانچہ ١٢٤١ھ /١٨٢٦ء میں قافلہ کے ساتھ وطن ِ عزیز کو خیر باد کہا اَور آزاد قبائل کا اِرادہ فرمایا پنجاب سے گزرنا مشکل تھا اِس لیے را جستھان کا طویل راستہ ١ اِختیار فرمایا نیز اِس راستہ میں وہ ریاستیں پڑتی تھیں جنکے دِلوں میں حریت موجزن تھی جب قافلہ گوالیار پہنچا تومہاراجہ دولت راؤ سندھیا نے اَور اُن کے سالے وزیر راجہ ہندو راؤ نے بڑے اہتمام کے ساتھ قافلہ کو ٹھہرایا، اُن دِنوں مہاراجہ سندھیا اِستسقاء کے مرض میں مبتلا تھے اَور سارا کام راجہ ہندو راؤ کرتے تھے۔ مہا رانی نے اِصرار کیا کہ سیّد صاحب اِتنی مدت گوالیار میں قیام کریں کہ لشکر کے لیے پوراسازو سامان فراہم کیا جاسکے مگر سیّد صاحب نے معذرت کی۔ گوالیار کے قیام میں سیّد صاحب نے ہمراہیوں کوباقاعدہ فوجی طریق پر پانچ حصوں میں تقسیم کیا اَور ہر جماعت کا ایک مستقل سرِ عسکر بنادیا۔ قافلہ گوالیار سے روانہ ہو کر سندھ ہوتا ہوا قندھار اَور کابل کے راستہ سے صوبہ سر حد میں داخل ہوا، آزاد قبائل کے خوانین اَور عوام کثرت سے سیّد صاحب کے حلقہ بیعت میں داخل ہوگئے۔ صوبہ سر حد پہنچنے پر ١٢ جمادی الثانیہ ١٢٤٢ھ/ ١٨٢٦ء کو بالاتفاق سیّد صاحب کے ہاتھ پر اِمامت و خلافت کی بیعت کی گئی۔ سیّد صاحب نے وہاں مرکز قائم کر کے باقاعدہ حکومت کا اعلان کردیا اَور والی ٔکابل، سلطان ہرات ،شاہ بخارا، رئیس قلات اَور آزاد قبائل کے دیگر سرداروں کو اِمداد کے لیے خطوط لکھے۔ اُن خطوط میں جہاد کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے بیان کیا گیا تھا کہ جہاد کا مقصد ہندوستان کو اَنگریزوں سے آزاد کرانا ہے۔ ١ شاندار ماضی ص ٤٠٧ج٢ و تاریخ ِ دیوبند مفصلًا۔ نیز تذکرة العابدین میں مالیر، کوٹلہ، محدوت، بہاولپور، حیدر آباد سندھ، شکار پور، جاگن خان گڑھ، دَرّۂ دہاڑ، دَرّۂ بولان پشین کے مقامات سے گزرنا بھی لکھا ہے۔ (ص ١٣٣ ج١ )