Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

34 - 65
جاتا اِس لیے آپ نے اَفغانستان کے قریبی حصہ صوبہ سر حد کو منتخب فرمایا وہاں اَفغانستان اَور بخارا و ترکی وغیرہ سے اِمداد کی توقع تھی۔ 
چنانچہ ١٢٤١ھ /١٨٢٦ء میں قافلہ کے ساتھ وطن ِ عزیز کو خیر باد کہا اَور آزاد قبائل کا اِرادہ فرمایا پنجاب سے گزرنا مشکل تھا اِس لیے را جستھان کا طویل راستہ  ١  اِختیار فرمایا نیز اِس راستہ میں وہ ریاستیں پڑتی تھیں جنکے دِلوں میں حریت موجزن تھی جب قافلہ گوالیار پہنچا تومہاراجہ دولت راؤ سندھیا نے اَور اُن کے سالے وزیر راجہ ہندو راؤ نے بڑے اہتمام کے ساتھ قافلہ کو ٹھہرایا، اُن دِنوں مہاراجہ سندھیا اِستسقاء کے مرض میں مبتلا تھے اَور سارا کام راجہ ہندو راؤ کرتے تھے۔ مہا رانی نے اِصرار کیا  کہ سیّد صاحب اِتنی مدت گوالیار میں قیام کریں کہ لشکر کے لیے پوراسازو سامان فراہم کیا جاسکے مگر   سیّد صاحب نے معذرت کی۔ 
گوالیار کے قیام میں سیّد صاحب نے ہمراہیوں کوباقاعدہ فوجی طریق پر پانچ حصوں میں  تقسیم کیا اَور ہر جماعت کا ایک مستقل سرِ عسکر بنادیا۔ قافلہ گوالیار سے روانہ ہو کر سندھ ہوتا ہوا قندھار اَور کابل کے راستہ سے صوبہ سر حد میں داخل ہوا، آزاد قبائل کے خوانین اَور عوام کثرت سے سیّد صاحب کے حلقہ بیعت میں داخل ہوگئے۔ صوبہ سر حد پہنچنے پر ١٢ جمادی الثانیہ ١٢٤٢ھ/ ١٨٢٦ء کو بالاتفاق   سیّد صاحب کے ہاتھ پر اِمامت و خلافت کی بیعت کی گئی۔ 
سیّد صاحب نے وہاں مرکز قائم کر کے باقاعدہ حکومت کا اعلان کردیا اَور والی ٔکابل، سلطان ہرات ،شاہ بخارا، رئیس قلات اَور آزاد قبائل کے دیگر سرداروں کو اِمداد کے لیے خطوط لکھے۔ اُن خطوط میں جہاد کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے بیان کیا گیا تھا کہ جہاد کا مقصد ہندوستان کو اَنگریزوں سے آزاد کرانا ہے۔ 
   ١  شاندار ماضی ص ٤٠٧ج٢  و  تاریخ ِ دیوبند مفصلًا۔ نیز تذکرة العابدین میں مالیر، کوٹلہ، محدوت، بہاولپور، حیدر آباد سندھ، شکار پور، جاگن خان گڑھ، دَرّۂ دہاڑ، دَرّۂ بولان پشین کے مقامات سے گزرنا بھی لکھا ہے۔ (ص ١٣٣  ج١ ) 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter