Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

27 - 65
''لیکن قصبۂ دیبن کہ دیوبند گویند دَریں زمانہ اَز غلغلہ اَشخاص متقادمہ نمایاں شدہ اَست مناسب آں اَست کہ دَراں قصبہ وطن گیرند و نکاح کنند تا مردم آنجا اِستفادہ کنند پس شیخ مذکور ہم چنان کرد۔'' 
آپ کا فیض دیوبند اَور اَطراف ِ دیوبند میں پھیلا۔ دیوبند کے مشہور طبیب حکیم عبداللطیف جو راجہ مالوہ کے طبیب ِخاص تھے فرمایا کرتے تھے حضرت سیّد محمد اِبراہیم کی نظر کیمیا اَثر اَور فیض ِصحبت سے اِن کا خاندان بھی مسلمان ہوا۔ دیوبند کے گوجر بھی آپ ہی کے فیض ِصحبت سے داخل ِ اِسلام ہوئے آپ کی وفات ٥ شوال ١٠٣٤ھ/ ١٦٢٤ء کو ہوئی، مسجد کی جانب شمال آپ کا مزار ہے۔ 
یہ جگہ اَب ''سرائے پیر زادگان'' کہلا تی ہے، آپ ہی کا خاندان ساداتِ دیوبند کا سب سے بڑا خاندان ہے۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے سیّد محمد اِسماعیل بندگی جانشین ہوئے اَور تمام    عمر دَرس و تدریس اَور تربیت ِ باطنی میں مشغول رہے۔ آپ نے ٢٩ محرم ١٠٩٢ھ/ ١٦٨١ء میں وفات پائی اَور اپنے والد کے پہلو میں بائیں جانب دفن ہوئے۔ 
بندگی محمد اِسماعیل اَور اُن کے فرزند سیّد محمد عارف اَور اُن کے فرزند سیّدو جیہہ الدین کی نسبت عہد ِعالمگیری کے پروانہ میں بہت بلند کلمات اِستعمال کیے گئے ہیں۔ 
''دریں ولایت شیخ و جیہہ الدین پسر غفران پناہ معارف آگاہ شیخ محمد عارف ولد مغفرت پناہ بندگی شیخ محمد اِسماعیل کو بصلاح و تقوی آراستہ لیاقت تمام دارد بجائے پدر خود دَر خانقاہ بتدریس و تذکیر باجماعت طالب ِعلماں و فقراء و صوفیہ مشغول اَست۔ ''
یہ فرمان ٩ شوال ٤٤ھ جلوس عالمگیری میں غضنفر خان صوبیدار دوآبہ کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اِسی طرح کا دُوسرا فرمان جلوس ِ عالمگیری کے ٣٠ھ کا سیّد محمد صابر کے نام محمد عرب کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اِن سب حضرات کی قبریں اَپنے جد بزرگوار کے مزار کے احاطہ میں ہیں۔ سیّد محمد عارف  کی وفات ١١٥٠ھ میں بعہد ِمحمد شاہ ہوئی۔ دیوبند میں یہ خانقاہ دینی علوم کی اَوّلین شعاع تھی جس کو حق تعالیٰ نے گیارہویں صدی کے اَوائل میں سیّد محمد اِبراہیم قدس سرہ کے مقدس ہاتھوں سے روشن کیا تھا۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter