ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
''لیکن قصبۂ دیبن کہ دیوبند گویند دَریں زمانہ اَز غلغلہ اَشخاص متقادمہ نمایاں شدہ اَست مناسب آں اَست کہ دَراں قصبہ وطن گیرند و نکاح کنند تا مردم آنجا اِستفادہ کنند پس شیخ مذکور ہم چنان کرد۔'' آپ کا فیض دیوبند اَور اَطراف ِ دیوبند میں پھیلا۔ دیوبند کے مشہور طبیب حکیم عبداللطیف جو راجہ مالوہ کے طبیب ِخاص تھے فرمایا کرتے تھے حضرت سیّد محمد اِبراہیم کی نظر کیمیا اَثر اَور فیض ِصحبت سے اِن کا خاندان بھی مسلمان ہوا۔ دیوبند کے گوجر بھی آپ ہی کے فیض ِصحبت سے داخل ِ اِسلام ہوئے آپ کی وفات ٥ شوال ١٠٣٤ھ/ ١٦٢٤ء کو ہوئی، مسجد کی جانب شمال آپ کا مزار ہے۔ یہ جگہ اَب ''سرائے پیر زادگان'' کہلا تی ہے، آپ ہی کا خاندان ساداتِ دیوبند کا سب سے بڑا خاندان ہے۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے سیّد محمد اِسماعیل بندگی جانشین ہوئے اَور تمام عمر دَرس و تدریس اَور تربیت ِ باطنی میں مشغول رہے۔ آپ نے ٢٩ محرم ١٠٩٢ھ/ ١٦٨١ء میں وفات پائی اَور اپنے والد کے پہلو میں بائیں جانب دفن ہوئے۔ بندگی محمد اِسماعیل اَور اُن کے فرزند سیّد محمد عارف اَور اُن کے فرزند سیّدو جیہہ الدین کی نسبت عہد ِعالمگیری کے پروانہ میں بہت بلند کلمات اِستعمال کیے گئے ہیں۔ ''دریں ولایت شیخ و جیہہ الدین پسر غفران پناہ معارف آگاہ شیخ محمد عارف ولد مغفرت پناہ بندگی شیخ محمد اِسماعیل کو بصلاح و تقوی آراستہ لیاقت تمام دارد بجائے پدر خود دَر خانقاہ بتدریس و تذکیر باجماعت طالب ِعلماں و فقراء و صوفیہ مشغول اَست۔ '' یہ فرمان ٩ شوال ٤٤ھ جلوس عالمگیری میں غضنفر خان صوبیدار دوآبہ کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اِسی طرح کا دُوسرا فرمان جلوس ِ عالمگیری کے ٣٠ھ کا سیّد محمد صابر کے نام محمد عرب کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اِن سب حضرات کی قبریں اَپنے جد بزرگوار کے مزار کے احاطہ میں ہیں۔ سیّد محمد عارف کی وفات ١١٥٠ھ میں بعہد ِمحمد شاہ ہوئی۔ دیوبند میں یہ خانقاہ دینی علوم کی اَوّلین شعاع تھی جس کو حق تعالیٰ نے گیارہویں صدی کے اَوائل میں سیّد محمد اِبراہیم قدس سرہ کے مقدس ہاتھوں سے روشن کیا تھا۔