ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2011 |
اكستان |
|
والے'' صدیق'' (بھی) نہیں پہنچ سکتے اَور یہ جو اِرشادات ہیں یہ خوشخبریاں ہیں بعد والوں کے لیے بھی۔ صحابہ کرام کے بعد تابعین کا درجہ اَور اِمام اَبوحنیفہ : اُن کے بعد درجہ ہے تابعین کا جوصحابہ کرام کو دیکھنے کی سعادت سے مشرف ہوئے اِمام ِ اعظم اَبوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کو چاروں اِماموں میں یہ شرف حاصل ہے کہ اُنہوں نے حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کو توبالاتفاق دیکھا ہے باقی اُن کی جس وقت پیدائش ہوئی اَور جس وقت اُنہوں نے ہوش سنبھالا اَور بڑے ہوئے اُس وقت صحابہ کرام میں کافی حضرات زندہ تھے اُن کی روایات جو صحابہ کرام سے منقول ہیں وہ بھی بہت بنتی ہیں اُنیس بیس یا اِکیس روایتیں تقریبًابن جاتی ہیں جو صحابہ کرام سے ہیں اُن کی منقول ۔ اَحناف سے زیادہ شافعی حضرات نے اِمام اَبوحنیفہ کی تعریفیں لکھیں : اَور عجیب بات یہ کہ حنفیوں نے جتنی تعریف اِمام صاحب کی لکھی ہوگی اُس سے زیادہ ہی شافعی حضرات نے لکھی ہیں ۔ جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ بزرگ گزرے ہیں اُنہوں نے بہت کتابیں لکھیں بہت فنون میں لکھی ہیں اَور بڑی بڑی قیمتی کتابیں، تفسیر میں اُن کی کتاب مشہور ہے'' دُرِ منثور'' اِس کے علاوہ ''جلالین ''بھی پڑھائی جاتی ہے اُس میں ایک حصہ اُن کا ہے یہ سب مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے تفسیر کی کتاب ہے، حدیث میں بھی اُنہوں نے بہت کتابیں لکھی ہیں'' جمع الجوامع'' وغیرہ وغیرہ بہرحال اُمت کے معروف ترین لوگوں میں جلال الدین سیوطی بنتے ہیں ۔اَور ایسے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ایسی تصانیف کی ہیں کہ جس کو ساری اُمت نے قبول کیا ہے اُن کو اللہ نے رُوحانیت سے نوازا تھا اُن کے اَوقات میں برکات تھیں جو اِتنی بڑی چیزیں مشکل چیزیں وہ لکھ گئے وہ ہیں شافعی مسلک کے ، مقلد اِمام شافعی کے ہیں تاریخ لکھ رہے ہیں اِمام صاحب کی ،اُنہوں نے باقاعدہ ایک رسالہ لکھا ہے جو عربی میں ہے وہ موجود ہے اُس میں اِمام صاحب کی وہ سب روایتیں جو صحابہ کرام سے ہوسکتی تھیں وہ اُنہوں نے نقل کی ہیں ۔ علامہ سیوطی کا رُوحانی مقام اَور کرامات : یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ کی باتوں کو جو حدیث کے بارے میں ہیں اُن کو ایک طرح کی رُوحانی تصدیق حاصل ہے ۔وہ بڑے صاحب ِرُوحانیت تھے اُن کے حالات میں لکھتے ہیں کہ وہ