Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2011

اكستان

21 - 65
زُہدو تقوی  :
آنحضرت  ۖ  نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے لیے رخصت کرتے ہوئے فرمایا :     اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِیَ الْمُتَّقُوْنَ مَنْ کَانُوْا وَحَیْثُ کَانُوْا (الحدیث) قریب ترین مجھ سے متقی حضرات ہیں خواہ وہ کوئی ہوں اَور کہیں بھی رہتے ہوں۔ 
اِسی طرح قرآنِ پاک کی متعدد آیات اَور اَحادیث ِرسول اللہ  ۖ  میں زُہد کی فضیلت بیان کی  گئی ہے۔ قبل اِس کے کہ ہم حضرت شیخ الاسلام کے زُہدو تقوی کو بیان کر یں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت ِ زُہد اَور تقوی کو بیان کر دیا جائے تاکہ حضرت کی زاہدانہ اَور متقیانہ زندگی آسانی سے سمجھ میں آسکے اَور زہدو  تقوی میں آپ کا مقام بھی معلوم ہوجائے۔ 
زُہد کے متعلق عوام تو عوام بعض خواص کو بھی غلط فہمی ہے اَور دھوکہ باز صوفیاء نے فرض و واجبات سے صرف ِنظر کر کے محض مستحبات اَور اِسی طرح حرام کو نظر اَنداز کر کے اِختیار ِمباحات کو ہی زُہد قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ زُہد تو کجا اَعلیٰ درجہ کی بے دینی ہے لیکن جاہل پیروں کی دُکان اِسی سے سنورتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اِن شیطان نما صوفیوں سے محفوظ رکھے۔ 
اِس کے علاوہ عام طور سے یہ چیز ذہنوں میں جگہ پکڑے ہوئے ہے کہ نہ کھانا ،نہ سونا، نہ شادی بیاہ کرنا اَور نہ اچھا لباس ہی پہننا یہی زاہدانہ زندگی ہے اَگر کسی نے یہی سمجھا ہے تو سخت غلطی کی ہے۔
اِمام غزالی   اِحیاء العلوم میں فرماتے ہیں  : وَقَدْ قَالَ قَائِلُوْنَ لَا مَعْنٰی لِلزُّھْدِ فِیْ اَصْلِ النِّکَاحِ وَلَا فِیْ کَثْرَتِہ وَاِلَیْہِ ذَھَبَ سَھْلُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَقَالَ سَیِّدُ الزَّاھِدَیْنِ حُبِّبَ اِلَیَّ النِّسَائُ فَکَیْفَ تَزْھَدُ فِیْھِنَّ وَوَافَقَہ عَلٰی ھٰذَا الْقَوْلِ اِبْنُ عُیَیْنَةَ وَقَالَ کَانَ اَزْھَدُ الصَّحَابَةِ عَلِیُّ بْنُ  اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَکَانَ لَہ اَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَیَضَعُ عَشْرَةَ سَرِیَّةً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ ۔
''کہنے والوں نے کہا ہے کہ اَصل نکاح اَور کثرتِ نکاح زُہد کے منافی نہیں ہے۔ یہی مذہب سہل بن عبد اللہ کا ہے فرماتے ہیں جبکہ آنحضرت  ۖ  جو تمام زاہدوں کے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 آپ ۖ کے اِرشاد کا مطلب : 7 3
5 صحابہ کرام کے بعد تابعین کا درجہ اَور اِمام اَبوحنیفہ : 8 3
6 اَحناف سے زیادہ شافعی حضرات نے اِمام اَبوحنیفہ کی تعریفیں لکھیں : 8 3
7 علامہ سیوطی کا رُوحانی مقام اَور کرامات : 8 3
8 آپ کے زمانے کی برکات زبردست تھیں : 10 3
9 اللہ تعالیٰ اَور بندوں کے حقوق سنت کے مطابق : 11 3
10 اُس زمانہ میں عبادت کی طرف رَغبت تھی اَب نفرت ہے : 12 3
11 صحابہ کرام کی رائے اہم ہونے کی وجہ : 13 3
12 ''سرسیّد ''بھی گمراہ ہوا : 14 3
13 ریاء کار اِتباع ِ سنت نہیں کر سکتا : 15 3
14 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٤ (قسط : ٢ ) 16 1
15 نفاذِ شریعت کا سیدھا راستہ 16 14
16 کلمات ِچند بر قانونِ اِسلامی 16 14
17 وفیات 19 1
18 اَنفَاسِ قدسیہ 20 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 20 18
20 مقاماتِ عالیہ یا اَخلاقِ باطنہ : 20 18
21 زُہدو تقوی : 21 18
22 قسط : ٣٠تربیت ِ اَولاد 26 1
23 سزا دینے میں ظلم و زیادتی نہ ہونے پائے اِس کی تدبیر : 26 22
24 اگر بہت زیادہ غصہ آئے تو کیا کریں : 27 22
25 سزا دینے میں ظلم و زیادتی ہوگئی تو اُس کی تلافی کا طریقہ : 27 22
26 نافرمان اَولاد : 27 22
27 اَولاد کی پرورش اَور علاج معالجہ کے سلسلہ میں پریشان ہونے سے بھی ترقی ہے : 27 22
28 پریشانی کی وجہ اَور اُس کا حل : 28 22
29 قسط : ١ حضرت اِمام حسین بن علی رضی اللہ عنہما 29 1
30 نام و نسب : 29 29
31 پیدائش : 29 29
32 عہد ِنبوی ۖ : 30 29
33 عہد ِصدیقی رضی اللہ عنہ : 30 29
34 عہد ِفاروقی رضی اللہ عنہ : 31 29
35 عہد ِعثمانی رضی اللہ عنہ : 32 29
36 ختم ِ بخاری شریف 33 1
38 شب ِبرا ء ت............ فضائل و مسائل 40 1
39 ماہِ شعبان کی فضیلت : 40 38
40 شب ِبراء ت کی فضیلت : 41 38
41 شب ِبرا ء ت میں کیا ہوتا ہے؟ : 42 38
42 ایک اعتراض اَور اُس کا جواب : 42 38
43 پندرہویں شعبان کے روزہ کا حُکم : 45 38
44 اُستاذ العلماء والقراء حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب نور اللہ مرقدہ 45 1
45 حالات وخدمات 45 44
46 تصنیفات وتالیفات : 45 44
47 قرآنیات : 48 44
48 حدیثیات : 48 44
49 اَرکانِ اِسلام : 49 44
50 سیرت وسوانح : 50 44
51 رمضان المبارک کی عظیم الشان فضیلتیں اَوربرکتیں 50 1
52 آنحضرت ۖ کا رمضان المبارک سے متعلق اہم خطبہ : 50 51
53 قسط : ٢ اِنسداد توہین ِرسالت قانون سے متعلق سوالوں کا تفصیلی جائزہ 56 1
54 بقیہ : شب ِبراء ت.......فضائل و مسائل 60 38
55 دینی مسائل 60 1
56 ( مسجد کے آداب و اَحکام ) 60 55
57 مسجد میںخوشبو اَور بدبو سے متعلق اَحکام : 60 55
58 مسجد کی صفائی سے متعلق اَحکام : 61 55
59 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter