ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2011 |
اكستان |
|
زُہدو تقوی : آنحضرت ۖ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے لیے رخصت کرتے ہوئے فرمایا : اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِیَ الْمُتَّقُوْنَ مَنْ کَانُوْا وَحَیْثُ کَانُوْا (الحدیث) قریب ترین مجھ سے متقی حضرات ہیں خواہ وہ کوئی ہوں اَور کہیں بھی رہتے ہوں۔ اِسی طرح قرآنِ پاک کی متعدد آیات اَور اَحادیث ِرسول اللہ ۖ میں زُہد کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قبل اِس کے کہ ہم حضرت شیخ الاسلام کے زُہدو تقوی کو بیان کر یں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت ِ زُہد اَور تقوی کو بیان کر دیا جائے تاکہ حضرت کی زاہدانہ اَور متقیانہ زندگی آسانی سے سمجھ میں آسکے اَور زہدو تقوی میں آپ کا مقام بھی معلوم ہوجائے۔ زُہد کے متعلق عوام تو عوام بعض خواص کو بھی غلط فہمی ہے اَور دھوکہ باز صوفیاء نے فرض و واجبات سے صرف ِنظر کر کے محض مستحبات اَور اِسی طرح حرام کو نظر اَنداز کر کے اِختیار ِمباحات کو ہی زُہد قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ زُہد تو کجا اَعلیٰ درجہ کی بے دینی ہے لیکن جاہل پیروں کی دُکان اِسی سے سنورتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اِن شیطان نما صوفیوں سے محفوظ رکھے۔ اِس کے علاوہ عام طور سے یہ چیز ذہنوں میں جگہ پکڑے ہوئے ہے کہ نہ کھانا ،نہ سونا، نہ شادی بیاہ کرنا اَور نہ اچھا لباس ہی پہننا یہی زاہدانہ زندگی ہے اَگر کسی نے یہی سمجھا ہے تو سخت غلطی کی ہے۔ اِمام غزالی اِحیاء العلوم میں فرماتے ہیں : وَقَدْ قَالَ قَائِلُوْنَ لَا مَعْنٰی لِلزُّھْدِ فِیْ اَصْلِ النِّکَاحِ وَلَا فِیْ کَثْرَتِہ وَاِلَیْہِ ذَھَبَ سَھْلُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَقَالَ سَیِّدُ الزَّاھِدَیْنِ حُبِّبَ اِلَیَّ النِّسَائُ فَکَیْفَ تَزْھَدُ فِیْھِنَّ وَوَافَقَہ عَلٰی ھٰذَا الْقَوْلِ اِبْنُ عُیَیْنَةَ وَقَالَ کَانَ اَزْھَدُ الصَّحَابَةِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَکَانَ لَہ اَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَیَضَعُ عَشْرَةَ سَرِیَّةً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ ۔ ''کہنے والوں نے کہا ہے کہ اَصل نکاح اَور کثرتِ نکاح زُہد کے منافی نہیں ہے۔ یہی مذہب سہل بن عبد اللہ کا ہے فرماتے ہیں جبکہ آنحضرت ۖ جو تمام زاہدوں کے