ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
عصری تعلیم کے حوالے سے کوئی مشاورت یا غورو خوض کیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ دینی معاملات اَور دینی اُمور کے ساتھ اُن کا کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ یوں تیس اَفراد پر مشتمل امتحانی کمیٹی میں اُن دو اَفراد کی موجود گی معاونت کے لیے ہوگی مداخلت کے لیے نہیں۔ بہرحال مدارسِ دینیہ کی قیادت میں پوری دیانت داری، ذمہ داری اَور احتیاط کے ساتھ یہاں تک سفر کیا ہے اَور ابھی بہت سفر اَور کئی مراحل باقی ہیں ۔ اکابر کی رہنمائی ،مجالسِ عاملہ و مجالسِ شوری کی مشاورت اور اَرباب ِمدارس کی آراء و تجاویز کی روشنی میں آگے بڑھا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اَب تک کی پیش رفت ہماری کامیابی ہے کیونکہ مدارس کے نمائندہ وفاقوں کو خودمختار اِمتحانی بورڈ کا درجہ دینے کا مطالبہ ہمارا درینہ مطالبہ تھا اَور ہمارے ہر اِ جلاس، ہر قراداد اَور اعلامیے میں بار بار اِس کا مطالبہ کیا جا تا رہا ہے۔ اسی طرح مدارس کی تحتانی اَسناد کی عدم قبولیت بھی ہماراایک درینہ مسئلہ تھا، اِس سے قبل حکومت مدارس کے سسٹم اَور حیثیت کو تسلیم کر نے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن اِس فیصلے سے ہم اپنا تشخص منوانے میں بھی کامیاب ہوئے، اپنی تعلیمی اَور اِمتحانی حیثیت قبول کروانے میں بھی کامیاب رہے، اپنی تحتانی اَسناد کی حیثیت بھی منوالی۔ باقی یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مدارس کی قیادت مدارس کے معاملے میں کسی بھی شخص سے زیادہ محتاط اَورحساس ہے اَور تمام قائدین کو اِس بات کا بخوبی احساس و اِدراک ہے کہ اِس وقت دینی مدارس بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی قیادت کو چو مکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے۔ تمام احباب خاطر جمع رکھیں، ایسا کوئی فیصلہ قطعًا قبول نہیں کیا جائے گا جس سے مدارس کی حیثیت ، مقاصد یا حریت و آزادی پر کوئی حرف آئے، وما توفیقی الا باللہ۔