ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
(٤) یہاں سے رُخصت ہو کر جب آپ بار گاہِ اِمداد یہ میں پہنچے تو حضرت حاجی اِمداد اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے نہایت شفقت فرمائی اَور مجلس میں حاضر ہو کر پاس اَنفاس کی اِجازت دی چنانچہ آپ حضرت حاجی اِمداداللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔ (٥) مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو اَور دُوسری بشارتوں کے علاوہ حضرت اِبراہیم بن اَدہم اَور گیارہ اَور اَولیاء کرام نے بشارتیں دیں اَور خوشخبریاں سنائیں۔ (٦) اِس کے بعد آپ کو گنگوہ شریف بُلا لیا گیا اَور بارگاہِ رشید یہ سے اِجازت ودَستار حاصل ہوئی۔ حضرت گنگوہی صرف اِجازت ہی عنایت فرماتے تھے مگر حضرت اَور آپ کے بھائی پر ایسی توجہ فرمائی کہ دستار ِخلافت بھی مرحمت فرمائی۔ (٧) مدینہ منورہ سے ایک دفعہ آپ نے حضرت شیخ الہند کی خدمت میں خط لکھا کہ اِس سال آپ کے درس میں شریک ہونا چاہتا ہوں تو حضرت شیخ الہند نے آپ کی وجہ سے درس کو اُس وقت تک شروع نہیں کرایا جب تک کہ آپ مدینہ منورہ سے تشریف نہ لے آئے۔ (٨) حضرت شیخ الہند جب مالٹا سے واپس تشریف لا رہے تھے تو سمندر میں تلاطم آیا چنانچہ حضرت شیخ الہند نے اپنے ترجمہ قرآن شریف کو جو اَسارتِ مالٹا میں کیا تھا اَور جو مدینہ پریس بجنور سے عرصے سے شائع ہو رہا ہے آپ کے سینہ مبارک سے باندھ دیا۔ ١ (٩) حالت ِمرض الموت میں حضرت شیخ الہند اپنی خدمت کے لیے حضرت کو اَمروہہ کی مدرسی سے واپس بُلا لیا تھا۔ (١٠) جب حضرت شیخ الہند نے آپ کو کلکتہ کے لیے رُخصت کیا تو آپ کا ہاتھ لے کر اپنے چہرے اَور سر اَور سینے سے لگایا گویا کہ اپنے تمام فیوضات و کمالات آپ کی طرف منتقل کر دیے۔ (١١) اَسارتِ مالٹا کے زمانہ میں حضرت شیخ الہند کو تراویح میں قرآن شریف سنانے کی غرض سے آپ نے قرآن شریف حفظ کیا اِس طرح پر کہ دِن کو یاد کرتے تھے اَور رات کو تراویح میں سنا دیتے تھے۔ ٢ ١ یہ روایت غلط مشہور ہو گئی بلکہ مولانا عزیز گل صاحب کے سینے سے باندھا تھا۔ ٢ حیات شیخ الاسلام اَز مولانا سیّد محمد میاں صاحب میں یہ واقعہ کراچی جیل کی طرف منسوب کر دیا ہے جو غلط ہے۔ ملاحظہ ہو ''اَسیر مالٹا''۔