ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
برابر ہوتا تھا، جو آج کل کم اَز کم آٹھ سو روپے کے برابر ہو گا) پھر اگر وہ رہا ہونے کے بعد یہ خرچ اَدا کر سکتا ہے تو اَدا کر دے گا، قیدی کے سردی گرمی کے لباس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہو گا، سب سے پہلے قیدیوں کے ساتھ حسن ِمعاملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا اُن کے بعد سب اُمراء نے۔( کتاب الخراج ص: ١٤٩) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ کوئی جیلر اپنے قید خانہ میں کسی مسلمان قیدی کو ایسی طرح باندھ کر نہ رکھے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اَور اُس قیدی کے سوا جو قتل کے کیس میں گرفتار ہو ہرگز کسی کو رات قید خانہ میں مت گزروائو (اِتنی دیر بھی قید نہ رکھو) اَور اُنہیں کھانے پینے اَور سالن کے لیے وہ کچھ دو جواُن کے لیے (ہر طرح) ٹھیک اَور مناسب ہو۔( کتاب الخراج ص: ١٥٠ لقاضی القضاة ابی یوسف) جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ کیا تو اُسے پکڑ کر پیش کیا گیا، آپ نے اپنے صاحبزادوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا : اَحْسِنُوْا اِسَارَہ فَاِنْ عِشْتُ فَاَنَا وَلِیُّ دَمِیْ وَ اِنْ مِتُّ فَضَرْبَة کَضَرْبَتِیْ۔( المُغنی ص: ١٠٦ج: ٨ ) ترجمہ : ''اِس کے ساتھ قید میں اچھا سلوک کرو اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا خود حقدار ہوں اَور اگر میرا اِنتقال ہو جائے تو میری جیسی ضرب اِسے لگائی جائے۔''امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فَاَمَرَ بِحَبْسِہ وَ قَالَ لِوَلَدِہ اِنْ قَتَلْتُمْ فَلَا تُمْثِلُوْا (مختصر المُزنی ص: ٢٥٦) ترجمہ :'' سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے ابن ملجم کو قید کرنے کا حکم دیا اَور اپنے صاحبزادے سے فرمایا کہ اگر اِسے تم قتل کرو تو مُثلا نہ کرنا (مار کر ناک کان کاٹ کر شکل مت بگاڑنا)۔'' اِس سے معلوم ہوا کہ قیدی کے ساتھ جب تک وہ زندہ رہے اَور جب اُسے مار دیا جائے بہر صورت کسی قسم کی بد سلوکی نہیں کی جا سکتی حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس صفین کی جنگ کے دوران جب کسی کو قید کر کے لایا جاتا تھا تو آپ اُس کے ہتھیار اَور سواری ضبط کر لیتے تھے اَور یہ عہد اَور وعدہ لیتے تھے کہ دوبارہ وہ مقابلہ کے لیے نہیں آئے گا پھر اُسے چھوڑ دیتے تھے۔( کتاب الخراج ص: ٢١٥) موجودہ حکومت اِسلام کا سب سے زیادہ نام لے رہی ہے اَور سب سے زیادہ با اِختیار ہے اِس لیے اِس پر سب سے زیادہ واجب بھی ہے کہ وہ ہر غیر اِسلامی فعل چھوڑ دے تا کہ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ ، فَأُولٰئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ اَور فَأُولٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ کی وعید سے بچ سکے اَور لوگوں کو بھی چاہیے کہ جہاں تک اُن کی رسائی ہو سکے حکمرانوں کو سمجھاتے رہیں۔