ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
اكستان |
|
کے متعلق فریق ِ مخالف سے چند سوالات ہیں : (i) مرزا نے اوّل اپنی کتابوں میں تشریعی نبوت کے دعوی کو کفر قرار دیا اور پھر خود صراحتًا تشریعی نبوت کا دعوی کیا۔ زیر آیت : ''ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدٰی .......'' (اعجاز احمد ی ص ٧ رُوحانی خزائن ص ١١٣ ج ١٩) ۔کیا یہ صریح تعارض اور تناقض نہیں؟ کیا یہ مرزا اپنے اقرار کی بناء پر کافر نہ ہوا؟ (ii) جب مرزا قادیانی تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کا مدعی ہے تو پھر اُس کا خاتم النبیین میں یہ تاویل کرنے اور غیر تشریعی نبی مراد لینے سے کیا فائدہ؟ (iii) نصوصِ قرآنیہ اَور صدہا اَحادیث نبویہ سے مطلقًا نبوت کا انقطاع اور اختتام ثابت ہے، اِس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ حضور ِاکرم ۖ کے بعد نبوت ِغیر مستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا، اگر ہے تو اُسے پیش کیا جائے؟ (iv) نبوت ِغیر مستقلہ کے ملنے کا معیار اَور ضابطہ کیا ہے؟ (v) کیا وہ معیار حضرات صحابہ میں نہ تھا؟ اور اگر تھا جیسا کہ مرزا کا اقرار ہے تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟ (vi) اِس چودہ سو سال کی طویل وعریض مدت میںائمہ حدیث،ائمہ مجتہدین، اولیائ، عارفین، اقطاب واَبدال، مجددین میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہ گزرا جو علم و فہم ولایت ومعرفت میں مرزا کے ہم پلہ ہوتا؟ اور نبوت ِغیر مستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول اللہ ۖ کی ساری اُمت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ تھا؟ (vii) آنحضرت ۖ کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے بعض اُن میں سے تشریعی نبوت کی مدعی تھے جیسے صالح بن ظریف اور بہاء اللہ ایرانی اور بعض غیر تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے ابو عیسٰی وغیرہ۔ تو اِن سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟ سوال ٤ : مرزاغلام احمد قادیانی نے براہین ِاحمد یہ حصہ چہارم میں سورۂ صف کی آیت نمبر١٠ کے حوالہ سے لکھا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے : ''ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدٰی وَدِےْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّےْنِ کُلِّہ یہ