ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
دعویٰ نبوت سے پہلے مرازا غلام احمد قادیانی بھی خاتم النبیین کے معنیٰ وہی سمجھتا تھا جو چودہ صدیوں سے تمام دُنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے ہیں جسے مرازا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب اَزالہ اَوہام میں لکھتا ہے کہ'' قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔'' (ازالہ اَوہام ص ٤١١ ، رُوحانی خزائن ص ٥١١ ج ٣ ) ''اور دعوی نبوت کے بعد مرزا قادیانی خاتم النبیین کے دُوسرے معنی بیان کرتا ہے جس کی بناپر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہوگیااَور بقول ِ مرازا جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔ '' (براہین ِاحمدیہ حصہ پنجم ص ٣٠٦ ج ٢١ ) ''جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ ۖ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے۔ '' (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٣٠٦ ج ٢١) اَب سوال یہ ہے کہ خاتم النبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں۔ پس اگر خاتم النبیین کے جدید معنی صحیح ہیں تو یہ لازم آئے گا کہ چودہ صدیوں میں جس قدر بھی مسلمان گزر چکے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے، گویا کہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر اِس وقت تک تمام اُمت کفر پر گزری اور دعوی نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب بھی جب تک اِسی سابقہ عقیدہ پر رہے تو وہ خود کافر رہے اور پچاس برس تک جملہ آیات واَحادیث کا مطلب بھی غلط سمجھتے رہے اور تمام اُمت کا اِس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص تمام اُمت کی تکفیر وتذلیل کرتا اور احمق وجاہل قرار دیتا ہو وہ بالاجماع کا فر اور گمراہ ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی بالاجماع کا فر اور گمراہ ٹھہرا۔ اَور اگر خاتم النبیین کے پہلے معنی صحیح ہیں جو تمام اُمت نے سمجھے اور مرزا صاحب بھی دعوی نبوت سے پہلے وہی سمجھتے تھے تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو مسلمان ہوئے اور مرزا صاحب دعوی نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہوگئے۔ اَب مرزائی خود بتائیں کہ وہ کون سا معنی کرنا پسند کریں گے؟ نوٹ : یہ مسئلہ فرقین میں مسلّم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعوی کفر ہے۔ خود مرزاقادیانی کی تصریحات اِس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ملاحظہ فرمائیں (مجموعہ اشتہارات ص ٢٣٠،٢٣١ ج ١ ) اختلاف صرف نبوت مستقلہ کے بارے میں ہے کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہوگئی۔اَس لیے اِس