ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
اُمید ہے کہ مع اہل وعیال خیریت سے ہوں گے۔جب پہلا مقدمہ طے ہوجائے گا تو آگے چلوں گا عمر کے تقاضے سے گھٹنوں میں درد ہے ذرا طبعیت ٹھیک ہو تو ایک دِن کے لیے لاہور آنا ہے، بغیر ساتھی کے سفر بھی دُشوار ہے۔ دُعا کیجئے اللہ تعالیٰ آپ سے ملاقات کا موقع دے۔ دُعا گو نیاز احمد نوٹ : میں نے یہ خط فوٹو سٹیٹ کرالیا ہے وہی بھیج رہا ہوں۔ نیاز احمد 22 - 3 -81 محترمی حضرت مولانا صاحب!دام فضلکم السلام علیکم ١۔ میرا اِرادہ تو یہ تھا کہ مختصر راستے سے ہم جلدی نتیجہ تک پہنچیں ۔ میں نے لکھا بھی تھا کہ چار مقدمات کے بعد اثباتی دلائل لکھوں گا۔ پہلا مقدمہ یہ ہے کہ روایت ِ ہشام اَصل ہے باقی متابع یا مؤید ہیں۔ آپ نے اَب تک اِسے تسلیم نہیں فرمایا طویل خط وکتابت کے بعد بھی ہم چلے تھے جہاں سے وہیں کے وہیں ہیں۔ اَب میں نے اختصار کو ختم کردیاہے۔ اَب ہر ہر چیز پر مفصل بحث کروں گا۔ تمہید : ٢۔ میں نے اپنے کام کی ابتداء اِس بات سے کی تھی کہ صحاح ستہ کی روایات سے احتجاج کروں گا دُوسرے درجے کی کتابوں سے روایت قبول نہیں کروں گا مگر روایت ِ ہشام بن عروہ کا استقصاء کرتے ہوئے خیال آیا کہ حدیث کی کتابوں سے اِس روایت ِ ہشام بن عروہ کے تمام رُواة کو تلاش کر کے جمع کرلیا جائے۔ اِس لیے کتاب الام اوربیہقی پھرمسند امام احمد سے اِس روایت کی اسناد کو دیکھا۔ اِس لیے اَب میں اِس سلسلے میں صحاح ستہ کے حوالہ جات قبول کروں گا اُس کے بعد کتاب الام، دارمی اور مسند ِ امام احمد کے۔ ٣۔ یہ بات ابتداء سے میرے ذہین نشین نہیں تھی۔ ہاں ! اتنی بات ضرور تھی کہ نابالغی کی بنا کو فطرت ِسلیمہ ویسے قبول نہیں کرتی اِس لیے اُس کی توجیہ موجود تھی کہ حضرت عائشہ ٩ سال کی عمر میں بالغہ تھیں اور