ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
اكستان |
|
کیا تھا بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا تھا مگر اُدھر تو اکبر نے نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ کو اُس سے بدظنی ہوئی اگرچہ بہت سے بدظنی کرنے والے غافل اور ناسمجھ تھے ۔اِدھر اپنی ناکامی دیکھ کر برہمنوں کے غیظ و غضب میں اشتعال پیدا ہوا اُدھر یورپین قومیں خصوصًا انگلستان کو اپنے مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ تلاش کرنا پڑا اور سب سے بڑا ذریعہ اُس کا منافرت بین الاقوام تھا اور ہے آپ سیواجی کی تاریخ اور سکھوں کی کارروائیوں اور صوبہ جات کے باغیانہ کارناموں، لارڈ کلایو کے بنگال وغیرہ میں بذریعہ ہندو قوم فتح مندیوں میں اِس ہاتھ کو بہت زیادہ کھیلتے ہوئے پائیں گے آج ہماری مہربان گورنمنٹ اِن کے ذریعہ بہت کامیاب ہورہی ہے اِس بنا پر اگرچہ بڑے درجہ تک برہمنوں نے مسلمانوں سے اپنی قوم کو محفوظ رکھا مگر اُس نے اِن کی متحدہ قومیت کا بھی شیرازہ بکھیردیا اور خود اُن میں بھی چھوت چھات کا عقیدہ جہلاء نے پیدا کردیا حتی کہ بعض خاندان برہمنوں کے بھی دُوسرے برہمن سے چھوت چھات کرنے لگے ٭ کفر نے کبھی اِسلام سے عدل و انصاف نہیں کیا۔ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّةً ۔ (الاٰیة) وغیرہ شاہد ِ عدل ہیں مگر اِسلام نے انصاف عدل و احسان کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اَور نہ چھوڑنا مناسب تھا اگرچہ انتقامیہ جذبات بہت کچھ چاہتے تھے۔ اگر بعض دُنیا اَور بادشاہوں نے کوئی ظلم و ستم کیا ہے تو وہ اُس کے ذمّہ دار ہیں اِسلام اُن کا رَوادار نہیں۔ ٭ مسائل میں اعتقاد کو جگہ نہ دینی چاہیے بلکہ حتی الوسع اطمینان حاصل کرنا چاہیے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجیے اَور ذکر و فکر میں لگے رہیے۔ عاقبت روزے بیابی کام را ٭ اِس حدیث (نور) کی سند میں …… گفتگو ہے۔ اگرچہ صوفیا کرام اَور محققین اہل ِ کشف اِس کے قائل ہیں مگر اِس کی تحقیق و تفصیل فہمِ عوام تو دَرکنار خواص سے بھی بالاتر ہے۔ اِس پر تقریر اَور بحث کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ اَتُحِبُّوْنَ اَنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ کے خلاف ہے۔ ( ماخوذ اَز : ملفوظات حضرت مدنی ص ١٢٢ )