ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
اكستان |
|
٭ تاریخ بتلاتی ہے کہ ہندوستان میں ابتداء ً جب مسلمان آئے عام طور پر اہل ِ ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو درکنار بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے جس طرح برہما، سیام، چین کھاسیا پہاڑوں وغیرہ میں رائج ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلا ط نے نہایت قوی تاثیر کی ،خاندان کے خاندان مسلمان ہوگئے مغربی پنجاب سندھ میں مسلمانوں کی زیادتی کا بڑا راز یہی ہے اِس کے بعد جب محمود غزنوی مرحوم کا زمانہ آتا ہے تو ہندؤں میں مختلف اَحوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور شنکر اچاریہ عام مذہب ہند کو بودھ مذہب سے نکال کر برہمنی بناتا ہے اور حکومت بودھ کی کمزوری کی بنا پر جوکہ افغانستان، بلوچستان، سندھ، لاہور سے فناکردی گئی تھی اَور وسط ِ ہند کے بھی بودھ رجواڑے محمود مرحوم کے پے درپے حملوں سے یکسر کمزور ہوگئے تھے شنکرا چاریہ کو عوام پر بڑی کامیابی حاصل ہوجاتی ہے چاروں طرف دَبے ہوئے برہمن جن کو بودھوں نے تقریبًا دفن کردیا تھا اُٹھ پڑتے ہیں اور تھوڑی سی مدت میں پھر برہمنی مذہب اقطار ہند میں پھیل جاتا ہے لوگ اسی کے دلدادہ ہوجاتے ہیں برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر اُن کے اقتدار ہی کو نہیں مذہب کو بھی مٹارہا ہے جس کی بنا پر اُن کی مذہبی اور دُنیاوی سیادتوں کا خاتمہ ہوجائے گا اس لیے اُنہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو '' مَلِچھ'' ١ کا خطاب دیا۔ گاؤکُشی اور گوشت خوری کو اِس کے لیے ذریعہ بنایا عوام ہند کی ذہنیت ہمیشہ سے تارکین ِ دُنیا کی پرستش کرنے والی واقع ہوئی ہے خصوصًا ہندو ذہنیت جس قدر سادھو اور فقیر کی پرستش کرتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے یہ ذہنیت بہت جلد شرق سے غرب تک اور شمال سے جنوب تک پھیل گئی اور وہ اِس میں کامیاب ہوگئے چونکہ اِسلامی قوت سے اُن کو مقابلہ میں باوجود مساعی عظیمہ کامیابی نہیں ہوئی اِس لیے اِسی طریقہ پر اُن کی جدوجہد محصور ہوگئی اور اِسی کو اُنہوں نے آلہ کار مدافعت بالقوی بھی بنانا چاہا۔ بادشاہانِ اسلام نے اوّلاً اِس طرف توجہ ہی نہیں کی بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابلہ کرتے رہے مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اِس طرف التفات ہوا خصوصًا اکبر نے اس خیال اور اِس عقیدے کو جڑ سے اُکھاڑنا چاہا اور اگر اِس کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہوجاتے یا کم اَز کم اُس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہوجاتی اور اِسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے نہ صرف اَشخاص پر قبضہ ١ پلید، میلا ،نا پاک، غلیظ، ناپاک قوم، جنگلی آدمی، وحشی آدمی، کافر، بے دین۔