ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
اكستان |
|
حضرت زبیر کے بیٹے کا آپ نے نام بھی رکھا اور تحنیک بھی فرمائی : آپ ۖنے ایک بات یہ اِرشاد فرمائی کہ لَا تُسَمُّوْا حَتّٰی اُسَمِّیَہ اِن کا نام تم لوگ مت رکھنا، میں رکھوں گا نام اِن کا۔ اِس لڑکے کا نام آپ نے عبد اللہ رکھا۔ وَحَنَّکَہ بِتَمْرَةٍ بِیَدِہ ١ آپ کے دست ِ مبارک میں کھجور تھی، اُس کو چباکر وہ اِن کے تالو میں رکھی، تو سب سے پہلے اِن کے پیٹ میں جو چیز پہنچی ہے اِس دُنیا میں آنے کے بعد وہ جناب ِ رسول اللہ ۖ کا لعاب ِ دہن ِمبارک تھا۔ یہ بڑے ہوگئے تھے، سمجھدار ہوگئے تھے۔ رسول اللہ ۖ کی باتیں یاد تھیں کیونکہ یہ کم اَز کم نو سال کے تھے جب جناب ِ آقائے نامدار ۖ دُنیا سے رُخصت ہوئے۔ تو ایسے بچے کو تو بہت سی باتیں یاد رہتی ہیں۔ تو اِنہیں کافی چیزیں ایسی یاد تھیں۔ شمار صحابہ کرام میں ہے اِن کا۔ اور بڑے سعادت مند صحابی ہیں اِس لحاظ سے کہ اِن کا نام بھی رسول اللہ ۖ نے رکھا اور اپنے دہن ِ مبارک میں چباکر کھجور اِن کے تالو سے لگائی تو آپ ۖ کا لعاب ِ دہن جو تھا وہ اِن کی سب سے پہلی غذاء بنی۔ یہ اِن کے فضائل میں شمار ہے۔ اِن کے والد حضرت ِ زبیر رضی اللہ عنہ خود بڑے بہادر تھے۔ حضرت ِ علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جب یہ تین حضرات حضرتِ عائشہ، حضرتِ طلحہ، حضرت زبیر نکلے، اور یہ لوگ پہنچے وہاں بصرہ کی طرف، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بعد میں پہنچے۔ قبضہ اِن حضرات کا تھا بصرہ پر۔ تو حضرتِ علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے مجھے آزمائش کا سامنا ہے ایسے لوگوں سے جن میں یہ صفات ہیں۔ حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا سب میں مقبول شخصیت ہیں۔ جناب ِ رسول اللہ ۖ کی زوجۂ مطہرہ ہونے کے اعتبار سے سب تعظیم کرتے ہیں۔ حضرتِ طلحہ کو فرمایا کہ مقبول ترین شخصیت ہے ، اِن میں سخاوت ہے اور چیزیں ہیں۔ حضرتِ زبیر کے بارے میں فرمایا کہ یہ اَشْجَعُ النَّاسِ بہت بہادر ہیں۔ توحالات ایسے بن گئے کہ مجھے اِن لوگوں سے سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حضرت زبیر جو عشرہ مبشرہ میں بھی ہیں جناب ِ رسول اللہ ۖ کی پھوپھی کے لڑکے تھے لہٰذا عبد اللہ بن زبیر رسول اللہ ۖ کے رشتے میں بھتیجے ہوئے۔ جیسے اِن کے والد بہادر تھے ویسے یہ بھی بہادر تھے۔ ١ مشکٰوة شریف ص ٥٧٩