ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
چاہتے ہیں کہ معاویہ کو لکھیں۔ یہ فرمانے لگے کہ ایک جماعت کو لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم میں سے ایک آدمی لکھ دے۔ جو کچھ ہونا ہو وہ آپ سب میں سے ایک کے ساتھ ہو یہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ سب کے ساتھ ہو اور آپ سب کے نام ان کے پاس پہنچ جائیں ۔یہ حضرات کہنے لگے تو ایسا شخص کون ہے جو ہمارے لیے اپنے آپ کو پیش کرے۔ ثابت نے فرمایا کہ ''میں''۔ اُنہوں نے کہا پھر آپ جانیں۔ اُنہوں نے لکھا اور اپنا نام پہلے لکھا۔ اُنہوں نے اِس میں متعدد چیزیں لکھیں : مِنْھَا نُصْرَةُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَغَیْرُ ذٰلِکَ۔ وَقَالَ حَبَسْتَ حُقُوْقَنَا وَاعْتَدَیْتَ عَلَیْنَا وَظَلَمْتَنَا وَمَالَنَا اِلَیْکَ ذَنْب اِلَّا نُصْرَتَنَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ کِتَابُہ عَلٰی مُعَاوِیَةَ دَفَعَہ اِلٰی یَزِیْدَ فَقَرَأَہ' ثُمَّ قَالَ لَہ مَاالرَّأْیُ؟ فَقَالَ تَبْعَثْ فَتَصْلُبُہ عَلٰی بَابِہ فَدَعَا کُبَرَآئَ اَھْلِ الشَّامِ فَاسْتَشَارَھُمْ فَقَالُوْا تَبْعَثْ اِلَیْہِ حَتّٰی تَقْدَمَ بِہ ھٰھُنَا وَتَقِفْہ لِشِیْعَتِکَ وَلِاَشْرَافِ النَّاسِ حَتّٰی یَرَوْہُ ثُمَّ تَصْلُبْہ فَقَالَ ھَلْ عِنْدَکُمْ غَیْرُ ھٰذَا؟ قَالُوْا لَا۔ فَکَتَبَ اِلَیْہِ قَدْ فَھِمْتُ کِتَابَکَ وَمَا ذَکَرْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَلِمْتَ اَنَّھَا کَانَتْ ضَجْرَةً لِّشُغْلِیْ وَمَاکُنْتُ فِیْہِ مِنَ الْفِتْنَةِ الَّتِیْ شَھَرْتَ فِیْھَا نَفْسَکَ فَانْظُرْنِیْ ثَلَاثًا۔ فَقَدِمَ کِتَابُہ عَلٰی ثَابِتٍ فَقَرَأَہ عَلٰی قَوْمِہ وَصَبَّحَھُمُ الْعَطَائَ فِی الْیَوْمِ الرَّابِعِ۔(تاریخ الخطیب ج١ص ١٧٦) اِن میں سے ایک بات نبی ۖ کی نصرت کرنا تھی۔ اور انہوں نے لکھا کہ تم نے ہمارے حقوق روک لیے اور تم نے ہم پر ظلم و زیادتی کی حالانکہ ہمارا صرف یہی قصور ہے کہ ہم نے نبی ۖ کی نصرت و مدد کی۔ جب ان کی یہ تحریر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے وہ یزید کو پکڑادی۔ یزید نے اس کو پڑھا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ یزید نے کہا کہ آپ کچھ فوجی بھیج کر اُن کو اُن کے دروازے پر سولی دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے بڑے لوگوں کو بلوایا اور اُن سے مشورہ کیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ اِن کو بلوائیں اور وہ یہاں