Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

¾اكستان Ù

28 - 64
یہ جنگ ِصفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کندہ قبیلہ کے لشکر کے سردار تھے اور خوارج کے خلاف جنگ نہروان میں بھی شریک ہوئے۔ 
٭ وَسَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّةِ اَلْحَسن وَالْحُسَین عَلَیْھِمَا السَّلَامُ اَبْنَائُ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَاُمُّھُمَا فَاطِمَةُ الزَّھْرَآئُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  الخ  (تاریخ بغداد للخطیب ج ١ ص ١٣٨) 
٭ اَبُوْقَتَادَةَ الْاَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  (تاریخ بغداد ج ١ ص ١٥٩) 
لَمَّا فَرَغَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ مِنْ قِتَالِ اَھْلِ النَّھَرْوَانِ قَفلَ اَبُوْقَتَادَةَ الْاَنْصَارِیُّ وَمَعَہ سِتُّوْنَ اَوْ سَبْعُوْنَ مِنَ الْاَنْصَارِ۔ قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَعَنْہُمْ  (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٦٠) 
جب حضرت علی  جنگ ِنہروان سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوقتادہ انصاری   اور دیگر ساٹھ یا ستر انصار واپس ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہل کی۔ 
٭ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (وَھُوَ) ابْنُ الْخَطِیْمِ) شَھِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُحُدًا۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٥ و اُسد الغابہ ج ١ ص ٢٢٨ ) وَکَانَ لَہ بَلَآئ مَّعَ عَلِیٍِ وَاسْتَعْمَلَہ عَلِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمَدَائِنِ  (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٦) 
یہ رسول اللہ  ۖ  کے ساتھ جنگ ِاُحد میں شریک تھے۔حضرت علی کے ساتھ ازمائش کے کٹھن وقت میں رہے۔ حضرت علی نے انہیں مدائن کا عامل بنادیا تھا۔ 
	خطیب بغدادی نے لکھا ہے  :
	حضرت ثابت اپنے گھر واپس آئے تو دیکھا کہ حضرات انصار رضی اللہ عنہم مسجد بنی ظفر میں جمع ہیں۔ یہ حضرت معاویہ کے پہلے پہل خلیفہ بنائے جانے کے بعد کی بات ہے۔ یہ حضرات اِس غرض سے جمع ہوئے تھے کہ حضرت معاویہ   کو اپنے حقوق طلب کرنے کے لیے لکھیں۔ کیونکہ انہوں نے ان کے وظائف دو یا تین سال سے بالکل نہیں دیے تھے۔ حضرت ثابت نے ان حضرات سے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے؟ اُنہوں نے کہا ہم
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter