ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
یہ جنگ ِصفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کندہ قبیلہ کے لشکر کے سردار تھے اور خوارج کے خلاف جنگ نہروان میں بھی شریک ہوئے۔ ٭ وَسَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّةِ اَلْحَسن وَالْحُسَین عَلَیْھِمَا السَّلَامُ اَبْنَائُ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَاُمُّھُمَا فَاطِمَةُ الزَّھْرَآئُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الخ (تاریخ بغداد للخطیب ج ١ ص ١٣٨) ٭ اَبُوْقَتَادَةَ الْاَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (تاریخ بغداد ج ١ ص ١٥٩) لَمَّا فَرَغَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ مِنْ قِتَالِ اَھْلِ النَّھَرْوَانِ قَفلَ اَبُوْقَتَادَةَ الْاَنْصَارِیُّ وَمَعَہ سِتُّوْنَ اَوْ سَبْعُوْنَ مِنَ الْاَنْصَارِ۔ قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَعَنْہُمْ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٦٠) جب حضرت علی جنگ ِنہروان سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوقتادہ انصاری اور دیگر ساٹھ یا ستر انصار واپس ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہل کی۔ ٭ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (وَھُوَ) ابْنُ الْخَطِیْمِ) شَھِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُحُدًا۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٥ و اُسد الغابہ ج ١ ص ٢٢٨ ) وَکَانَ لَہ بَلَآئ مَّعَ عَلِیٍِ وَاسْتَعْمَلَہ عَلِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمَدَائِنِ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٦) یہ رسول اللہ ۖ کے ساتھ جنگ ِاُحد میں شریک تھے۔حضرت علی کے ساتھ ازمائش کے کٹھن وقت میں رہے۔ حضرت علی نے انہیں مدائن کا عامل بنادیا تھا۔ خطیب بغدادی نے لکھا ہے : حضرت ثابت اپنے گھر واپس آئے تو دیکھا کہ حضرات انصار رضی اللہ عنہم مسجد بنی ظفر میں جمع ہیں۔ یہ حضرت معاویہ کے پہلے پہل خلیفہ بنائے جانے کے بعد کی بات ہے۔ یہ حضرات اِس غرض سے جمع ہوئے تھے کہ حضرت معاویہ کو اپنے حقوق طلب کرنے کے لیے لکھیں۔ کیونکہ انہوں نے ان کے وظائف دو یا تین سال سے بالکل نہیں دیے تھے۔ حضرت ثابت نے ان حضرات سے پوچھا یہ کیا ہورہا ہے؟ اُنہوں نے کہا ہم