Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

¾اكستان Ù

30 - 64
آئیں اور آپ ان کو اپنے حمایتوں اور سرکردہ لوگوں کے سامنے کھڑا کریں تاکہ وہ ان کو دیکھیں پھر آپ اِن کو سولی دے دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس کے علاوہ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ 
پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو جواب لکھا کہ میں نے آپ کی تحریر کو سمجھا اور آپ نے جو نبی  ۖ  کا ذکر کیا ہے حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ میں پریشانی میں مشغول تھا اور اس جنگ میں مبتلا تھا جس میں آپ نے اپنے کو خوب مشہور کیا۔ تو مجھے تین دن کی مہلت دیجئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جواب حضرت ثابت کے پاس آیا تو انہوں نے وہ اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور چوتھے دن ان کو وظیفے دے دیے۔ 
٭ اَلْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٧) 
٭ قَیْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (تاریخ الخطیب ج١ص ١٧٧) 
٭ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ (شَھِدَ اُحُدًا وَالْمَشَاھِدَ بَعْدَھَا) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (اُسد الغابہ ج ٣ ص ٣٧١) وَکَانَ قَدِ اسْتَعْمَلَ عُمَرُ حُذَیْفَةَ عَلٰی مَاسَقَتْ دَجْلَةُ وَاسْتَعْمَلَ عُثْمَانَ بْنُ حُنَیْفٍ عَلٰی مَا سَقَی الْفُرَاتُ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٩)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اِن اراضی پر عامل بنایا جن کو دجلہ سیراب کرتا تھا اور حضرت عثمان بن حنیف کو اُن اراضی پر عامل بنایا جن کو دریائے فرات سیرات کرتا تھا۔ 
وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعَثَہ اِلَی الْعِرَاقِ عَامِلًا وَاَمَرَہ بِمَسَاحَةِ سَقْیِ الْفُرَاتِ  (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٩) 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِن کو عامل بناکر عراق بھیجا اور اِن کو حکم دیا کہ یہ دریائے فرات سے سیراب شدہ اراضی کی پیمائش کریں۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter