ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
آئیں اور آپ ان کو اپنے حمایتوں اور سرکردہ لوگوں کے سامنے کھڑا کریں تاکہ وہ ان کو دیکھیں پھر آپ اِن کو سولی دے دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس کے علاوہ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو جواب لکھا کہ میں نے آپ کی تحریر کو سمجھا اور آپ نے جو نبی ۖ کا ذکر کیا ہے حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ میں پریشانی میں مشغول تھا اور اس جنگ میں مبتلا تھا جس میں آپ نے اپنے کو خوب مشہور کیا۔ تو مجھے تین دن کی مہلت دیجئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جواب حضرت ثابت کے پاس آیا تو انہوں نے وہ اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور چوتھے دن ان کو وظیفے دے دیے۔ ٭ اَلْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٧) ٭ قَیْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (تاریخ الخطیب ج١ص ١٧٧) ٭ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ (شَھِدَ اُحُدًا وَالْمَشَاھِدَ بَعْدَھَا) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (اُسد الغابہ ج ٣ ص ٣٧١) وَکَانَ قَدِ اسْتَعْمَلَ عُمَرُ حُذَیْفَةَ عَلٰی مَاسَقَتْ دَجْلَةُ وَاسْتَعْمَلَ عُثْمَانَ بْنُ حُنَیْفٍ عَلٰی مَا سَقَی الْفُرَاتُ۔ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٩) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اِن اراضی پر عامل بنایا جن کو دجلہ سیراب کرتا تھا اور حضرت عثمان بن حنیف کو اُن اراضی پر عامل بنایا جن کو دریائے فرات سیرات کرتا تھا۔ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعَثَہ اِلَی الْعِرَاقِ عَامِلًا وَاَمَرَہ بِمَسَاحَةِ سَقْیِ الْفُرَاتِ (تاریخ الخطیب ج ١ ص ١٧٩) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِن کو عامل بناکر عراق بھیجا اور اِن کو حکم دیا کہ یہ دریائے فرات سے سیراب شدہ اراضی کی پیمائش کریں۔