ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
اكستان |
|
عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت حضرت مولانا الحاج مظفر احمد صاحب ( جناب مولانا قاری محمد نور الحسن صاحب ،کراچی ) ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا مظہر انوارِ مدنی عارف باللہ محدث ِعظیم حضرت مولانا الحاج مظفر احمد صاحب بانی و شیخ الحدیث جامعہ ریاض العلوم مینگزی، بوتھیدنگ اَرکان (برما) خلیفہ مجاز شیخ الاسلام والمسلمین قطب العالم والارشاد حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ' سرزمین ِارکان (برما) کے یکتائے روزگار، ولی کامل، شیخ الحدیث والتفسیر ماہر فنون علوم ِدینیہ و اُمورِ سیاسیہ کے وہ روشن مینار تھے جو نصف صدی تک ہر سو چمکتے رہے جن کی یاد اُن کی ہزاروں کی تعداد میں تلامیذ اور سینکڑوں خلفاء و مریدین، محبین و متعلقین سر زمین ِارکان برما سے مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش سے ہوتے ہوئے پاکستان و سعودی عرب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی ذات ِگرامی اس دَورِ ظلمت میں ایک عظیم الشان مہرِتاباں، محبوب و مقبول ترین شخصیت اور علم و عمل کے بدرِ منیر رہے اور عبادت و ریاضت، حسن اخلاق، محبت ِحق اور خدمت ِخلق میں اپنے شیخ و مرشد حضرت اقدس مدنی جیسے خوگر و پابند اوقات تھے۔ خاندانی شرافت و نجابت میں جامع صفات کے مالک تھے۔ بلافرق و امتیاز عوام و خواص کے مرجع و منظورِ نظر تھے۔ حضرت پیر صاحب ١٣٤٨ھ مطابق ١٩٢٨ء اپنے وطن ِمالوف میں پیدا ہوئے۔ خاندانی سلسلہ کچھ اس طرح ہے : مظفر احمد ولد الحاج فضل الرحمن ولد سید علی، نسلی اعتبار سے زمیندار صاحب ثروت و سخاوت تھے۔ علم و علماء دوست انصاف پسند تھے۔ ان کی خاندانی رواداری اور فیاضی زبانِ زد عام و خاص تھی۔ حضرت موصوف نے ہوش سنبھالنے کے بعد تقریباً چھ سال کی عمر میں تعلیم کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے عم ِمحترم حضرت مولانا الحاج ابو القاسم صاحب کے پاس قرآن کریم کے ساتھ ساتھ دینیات کی تعلیم حاصل کی پھر چوتھی کلاس