ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005 |
اكستان |
|
کے رستہ کے خلاف توہم اُسے وہ ہی طرف دے دیں گے جو اُس نے اختیار کی ہے اورہم اُسے دوزخ میں ڈالیں گے اوروہ بہت بُری جگہ ہے'' ۔ اس لیے علمائِ صحابہ علماء ِ تابعین اورجواُن کے بعد سے آج تک آرہے ہیں اُن کے گروہ کی پیروی باعث نجات ہے یہی گروہ سواداعظم کہلاتا ہے یہی وہ گروہ ہے جسے فرقۂ ناجیہ قرار دیا گیا ہے اورفرمایا گیا ہے۔ مَااَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی ْ (نجات پانے والا وہ ہی گروہ ہے جو اُس راہ پرہو کہ) جس پر میں ہوں اورمیرے صحابہ ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا : لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْاُمَّةَ عَلَی الضَّلَالَةِ اَبَداً وَقَالَ یَدُ اللّٰہِ عََلَی الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْاَعْظَمَ فَاِنَّہ مَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ ۔ (حاکم ، مستدرک ص ١١٥ ج١ عن ابن عمر و ابن عباس و انس ) '' اللہ تعالیٰ اِس اُمت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اورارشاد فرمایا کہ اللہ کا ہاتھ (مدد) جماعت کے ساتھ ہے ،اس لیے سوادِاعظم کی پیروی کرتے رہو کیونکہ جو الگ ہوتا ہے وہ اکیلا جہنم کی طرف الگ کردیا جاتا ہے''۔ حضرت ابوذر غفاری اوردیگر صحابۂ کرام روایت فرماتے ہیں : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہ۔ (مستدرک ص ١١٧) ''نبی کریم علیہ الصلٰوة والسلام نے ارشاد فرمایا جوشخص جماعت سے ایک بالشت بھر بھی جدا ہوا تو اُس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اُتار پھینکا ''۔ ایک بار حضرت عمر نے جابیہ میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں نبی کریم علیہ الصلٰوة والتسلیم کی حدیث نقل فرمائی جس میں ایک جملہ یہ ہے۔ فَمَنْ اَرَادَ مِنْکُمْ بُحْبُوْحَةَ الْجَنَّةِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ۔(مستدرک ص١١٤) '' تم میں سے جو بھی جنت کا اعلیٰ حصہ حاصل کرنا چاہتا ہو تو اُسے جماعت کے ساتھ رہنا چاہیے'' ۔