ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005 |
اكستان |
|
جماعت سے مراد جماعت صحابہ ہے اہل ِسنت والجماعت وہی لوگ ہیں جو سنت کو مانتے ہوں اورجماعت صحابہ کے پیروکار ہوں۔جب صحابۂ کرام اطراف ِعالم میں پھیلے تو اُن سے دین سیکھنے والے علماء بھی اِسی طرح پھیل گئے۔ صحابۂ کرام کی بڑی بڑی فہرستیں کہ کون کون صحابی کس کس مقام پر گئے اورکتنی تعدادتھی، طبقات ابن سعد میں ہیں۔ لیکن حاکم رحمة اللہ علیہ نے بھی معرفة علو م الحدیث میں مختصر فہرست صرف تین صفحات میں دی ہے ۔البتہ انہوں نے تابعین اورتبع تابعین کے مشہور آئمہ ثقاة کی فہرست جو شرقاً غرباً معروف تھے خاصی طویل یکجا کردی ہے ان کے نام دہرانے تو اس مضمون میں ممکن نہیں البتہ مقامات کے نام اوریہ کتنی کتنی سطور میں ہے، ذکر کرتاہوں۔ اہلِ مدینہ کی فہرست ١٤ سطروں میں اہلِ کوفہ کی فہرست ٧٢ سطروں میں اہلِ مکہ کی فہرست ٦ سطروں میں اہلِ جزیرہ کی فہرست ١٠ سطروں میں اہلِ مصر کی فہرست ٥ سطروں میں اہلِ بصرہ کی فہرست سطروں میں اہل شام کی فہرست ٢٠ سطروں میں اہلِ واسط کی فہرست ٤ سطروں میں اہلِ یمن کی فہرست ٩ سطروں میں اہلِ خراسان کی فہرست١٩ سطروں میں اہل یمامہ کی فہرست ٢سطروں میں (معرفة علوم الحدیث از ص٢٤ تا ٢٤٩) یہ فہرست خیرالقرون کے قرن ِثانی اورقرن ِثالث کے ائمہ معروفین پر مشتمل اوراسی دور میں مسائل وقضایا اوراصول فقہ وغیرہ سب مرتب ہو گئے اورپوری دُنیا میں پھیل گئے۔ ان ہی علماء اُمت کا عمل اہلِ اسلام کے نزدیک معتبر چلا آرہا ہے اوراِسی کا نام'' تعامل'' ہے۔مثلاً امام مالک رحمة اللہ علیہ کے نزدیک صرف اہلِ مدینہ کا عمل بھی حدیث ِصحیح سے زیادہ قوی ہے کیونکہ اہلِ مدینہ کے بارے میں صحابۂ کرام کی یہی رائے تھی کہ وہاں کے باشندوں کا عمل بہت بعد تک وہی رہا جو رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں تھا مثلاً حضرت انس رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اُن سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ ۖ کے زمانہ سے اب تک آپ نے ہم میں کیا تبدیلی دیکھی ہے تو انہوں نے فرمایا۔