ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005 |
اكستان |
|
ہیں اورقرآن کو آپ لوگوںنے چھوڑ دیا ہے ۔انہوںنے جواب میںارشاد فرمایا کہ یہ بتلائو کہ اگر تم اورتمہارے جیسے لوگ سوائے قرآن کے اورکچھ نہ مانیں تو کہاں سے جانوگے کہ ظہر کی نمازمیں رکعتوں کی تعداد کتنی ہے اور عصر کی کتنی ہے اور اس کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور مغرب کی نماز کیسے ہوتی ہے، عرفات میں قیام کیسے اوررمی جمار کس طرح ہوتی ہے اورچور کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے گا ،گٹے سے یا کُہنی سے یا مونڈھے سے۔ پھر فرمایا : اِتَّبِعُوْا حَدِیْثَنَا مَا حَدَّثْنَاکُمْ وَاِلاَّ وَاللّٰہِ ضَلَلْتُمْ (کفایہ ص ١٦) ''ہم تمہیں جو حدیثیں سناتے ہیں اُن کی پیروی کرو، ورنہ خدا کی قسم تم گمراہ ہو جائو گے''۔ حضرت عمران بن الحصین کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہورہا ہے کہ حدیث کا قرآن سے کس قدر اہم اورگہرا ربط ہے ۔ بالکل اسی طرح تواتر کا بھی درجہ ہے ۔تواتر کا مطلب ہے کہ علماء اورعوام کی جماعت کسی بات کو شروع سے نقل کرتی چلی آرہی ہو۔ مثلاً قرآن پاک کی ہر ہر آیت اورہرہر قراء ت کو شروع سے آج تک تمام علماء قراء اورحفاظ نقل کرتے چلے آرہے ہیں تو قرآن پاک کا قرآن ہونا تواتر کی قوت سے ثابت ہے۔ اسی طرح اوربھی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً نمازوں کے پانچ اوقات ،اذان ،تکبیر، نمازو ں کی رکعات اورمثلاً ڈاڑھی کا ثبوت، قربانی ، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا اورختنہ وغیرہ کا ثبوت بھی تواتر سے ہے۔ اور ایسی تمام چیزوں کے خاص احکام ہیںمثلاً مسواک کے بارے میں کہا جائیگا کہ مسواک سنت ہے اور یہ جاننا کہ یہ سنت ہے یہ بھی مسنون ہے، اس سے ناواقفیت محرومی ہے اس کا ترک سبب عتاب ہے ، اس کے مسنون ہونے کا عقیدہ رکھنا فرض ہے اوراس کی سُنّیِّت کا انکار کفر ہے کیونکہ یہ تواتر عملی سے ثابت ہے ۔ دین اسلام کے تمام عقائد وشعائر جو اہل سُنت والجماعت نے اپنا رکھے ہیں وہ صحابہ کرام پھر تابعین اورتبع تابعین کے ذریعہ ایک خاص تسلسل کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں یہ ہی وہ طبقے ہیں کہ دین پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے ان پر نظر ڈالنی ضروری ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ حضرات ہیں جو عقائد وعلوم نبویہ کے حامل ہونے میں یکساں طورپر ذمہ داریاں اُٹھائے چلے آرہے ہیں ،ان کی راہ سے ہٹنا گمراہی ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَسَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہ جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ ( سورة النسائ) '' اورجوکوئی رسول کی مخالفت کرے جبکہ اِس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اورچلے سب مسلمانوں