Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005

اكستان

17 - 64
ہیں اورقرآن کو آپ لوگوںنے چھوڑ دیا ہے ۔انہوںنے جواب میںارشاد فرمایا کہ یہ بتلائو کہ اگر تم اورتمہارے جیسے لوگ سوائے قرآن کے اورکچھ نہ مانیں تو کہاں سے جانوگے کہ ظہر کی نمازمیں رکعتوں کی تعداد کتنی ہے اور عصر کی کتنی ہے اور اس کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور مغرب کی نماز کیسے ہوتی ہے، عرفات میں قیام کیسے اوررمی جمار کس طرح ہوتی ہے اورچور کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے گا ،گٹے سے یا کُہنی سے یا مونڈھے سے۔ پھر فرمایا  : 
اِتَّبِعُوْا حَدِیْثَنَا مَا حَدَّثْنَاکُمْ وَاِلاَّ وَاللّٰہِ ضَلَلْتُمْ (کفایہ ص ١٦)
''ہم تمہیں جو حدیثیں سناتے ہیں اُن کی پیروی کرو، ورنہ خدا کی قسم تم گمراہ ہو جائو گے''۔ 
	حضرت عمران بن الحصین کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہورہا ہے کہ حدیث کا قرآن سے کس قدر اہم اورگہرا ربط ہے ۔ بالکل اسی طرح تواتر کا بھی درجہ ہے ۔تواتر کا مطلب ہے کہ علماء اورعوام کی جماعت کسی بات کو شروع سے نقل کرتی چلی آرہی ہو۔ مثلاً قرآن پاک کی ہر ہر آیت اورہرہر قراء ت کو شروع سے آج تک تمام علماء قراء اورحفاظ نقل کرتے چلے آرہے ہیں تو قرآن پاک کا قرآن ہونا تواتر کی قوت سے ثابت ہے۔ اسی طرح اوربھی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً نمازوں کے پانچ اوقات ،اذان ،تکبیر، نمازو ں کی رکعات اورمثلاً ڈاڑھی کا ثبوت، قربانی ، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا اورختنہ وغیرہ کا ثبوت بھی تواتر سے ہے۔ اور ایسی تمام چیزوں کے خاص احکام ہیںمثلاً مسواک کے بارے میں کہا جائیگا کہ مسواک سنت ہے اور یہ جاننا کہ یہ سنت ہے یہ بھی مسنون ہے، اس سے ناواقفیت محرومی ہے اس کا ترک سبب عتاب ہے ، اس کے مسنون ہونے کا عقیدہ رکھنا فرض ہے اوراس کی سُنّیِّت کا انکار کفر ہے کیونکہ یہ تواتر عملی سے ثابت ہے ۔ دین اسلام کے تمام عقائد وشعائر جو اہل سُنت والجماعت نے اپنا رکھے ہیں وہ صحابہ کرام پھر تابعین اورتبع تابعین کے ذریعہ ایک خاص تسلسل کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں یہ ہی وہ طبقے ہیں کہ دین پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے ان پر نظر ڈالنی ضروری ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ حضرات ہیں جو عقائد وعلوم نبویہ کے حامل ہونے میں یکساں طورپر ذمہ داریاں اُٹھائے چلے آرہے ہیں ،ان کی راہ سے ہٹنا گمراہی ہے۔
وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَسَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہ جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ ( سورة النسائ)
'' اورجوکوئی رسول کی مخالفت کرے جبکہ اِس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اورچلے سب مسلمانوں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 حسبہ بل کی چند شقیں 3 2
4 درس حدیث 8 1
5 کسی کے بارے میں دعوٰی نہیں کیا جاسکتا : 9 4
6 ''حقیر '' و '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا : 10 4
7 کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے : 10 4
8 '' قرآن وسنت اور تواتر وتعامل '' 11 1
9 قرآن پاک کی آیت میراث : 16 8
10 (٢) قرآن کریم میں ارشاد ہے : 16 8
11 (٣) حق تعالیٰ کاارشاد ہے : 16 8
12 شخصیت وخدمات حضرت مولانا سید حامد میاں 21 1
13 ایک اہم اصول : 22 12
14 خاتمہ کا اعتبارہوتا ہے : 22 12
15 حضرت نے اپنی تعریف میں نظم رُکوادی : 23 12
16 ایک مجلس کا واقعہ : 23 12
17 حضرت کا باطنی مقام اور حضرت شیخ الاسلام کی شہادت : 24 12
18 سب سے کم عمری میں خلافت عطا ہوئی : 24 12
19 امام الاولیاء حضرت لاہوری کا حضرت کے بارے میں ارشاد 28 12
20 روضۂ رسول ۖسے جواب اور عالم کشف میں بشارت : 29 12
21 ہندوستان سے افغانستان کے لیے روانگی : 29 12
22 غیبی اشارہ اورلاہور میں نزول : 30 12
23 مثالی درس گاہ ..... افراد کی تیاری ..... پُر امن انقلاب : 30 12
24 رائیونڈ روڈ پر درسگاہ اورخانقاہ : 30 12
25 حضرت کا توکل علی اللہ : 31 12
26 حضرت کا اتباع سنت اورتواضع : 32 12
27 بخاری شریف اور انوارات : 33 12
28 مرید ین کی اصلاح وتربیت : 33 12
29 ہر شب شب ِقدر ہے : 34 12
30 اجلاس جمعیت .. ...... گناہ کے کام پر استغفار : 34 12
31 ہدیہ میں احتیاط : 35 12
32 حقوق میں کوتاہی پر مرید کی سرزنش : 35 12
33 واشنگ ویئر اورکے ٹی کا کپڑا ناپسند فرماتے تھے : 36 12
34 طلباء اور سیاست : 36 12
35 ایک مدرس کو تنبیہ : 37 12
36 3سیاسی موقف میں پختگی اورقرآن سے دلیل : 37 12
37 ماہِ رجب کے فضائل واحکام 40 1
38 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 40 37
39 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 42 37
40 ماہِ رجب میں روزے : 44 37
41 رجب کے روزوں سے متعلق ایک اہم علمی تحقیق : 47 37
42 ٢٢ رجب کے کونڈے : 49 37
43 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 49 37
44 ٢٧ رجب کے منکرات اوررسمیں : 53 37
45 ٢٧رجب اورشب ِمعراج : 54 37
46 طلاق ایک ناخوشگوار ضرورت اوراُس کا شرعی طریقہ 58 1
47 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے وفتاوٰی : 58 46
48 گلدستہ احادیث 62 1
Flag Counter