Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005

اكستان

10 - 64
وراللہ تعالیٰ نے اپنا نام رکھا ہے'' متکبر ''بڑائیوں والا سب سے بڑی عظمتوں والا ۔ایک ہی ذات ہے بس جہاں سب ختم ہو جاتے ہیں وہی رہتا ہے ۔ تو ارشادفرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کہ مَنْ ذَاالَّذِیْ  یَتَأَ لّٰی عَلَیَّ  یہ کون ہے جو میرے بارے میں قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں یہ نہیں کروںگا، یہ جُرأت کیسے ہوئی اس کو ، ناپسند ہے اللہ کو یہ بات ۔ آدمی دوسرے کو نصیحت توکرسکتا ہے ، گناہ سے روک سکتا ہے اورروکنا فرض ہے نصیحت فرض ہے ۔
''حقیر ''  و  '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا  : 
	مگر اُسے یہ سمجھ لینا کہ وہ حقیر ہے یہ جائز نہیں ،کیونکہ حقیر اور غیر حقیر کا پتا تو مرنے کے بعد چلتا ہے ،وہ تو پتا ابھی ہے ہی نہیں ۔ کون کدھر جائے گاکدھر نہیں ،کچھ پتا نہیں۔ آخری وقت تک انسان کو یہی بتایا گیا ہے کہ اپنے ایمان کی سلامتی خدا سے چاہو ۔تو مَنْ ذَاالَّذِیْ یَتَأَ لّٰی عَلَیَّ  اَنِّیْ لَا اَغْفِرُ لِفُلانٍ یہ کون ہے جو قسم کھا رہا ہے میرے بارے میں کہ میں فلاں آدمی کو نہیں بخشوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں  قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍٍ وَاَحْبَطْتُّ عَمَلَکَ  اس بندہ سے اللہ نے فرمایا کہ میں نے فلاں کی بخشش کردی جس کے بارے میں تونے قسم کھائی تھی اور تیرا عمل میں نے ساقط کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے استغفار بتائی ، اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف بتایا، نہی عن المنکر بتایا ،بری بات سے روکو مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ کسی کو کمتر نہیں سمجھ سکتے ذلیل نہیں سمجھ سکتے ۔ اگر ذہن میں یہ آئے کہ یہ مجھ سے کمتر ہے تو تم کمترہو گئے اُس سے ۔ جب ذہن میں یہ آئے کہ یہ مجھ سے نیچا ہے تو خدا کی نظر میں تم نیچے ہوگئے وہ اُونچا ہو گیا   تو یہ جائز نہیں ہے۔
کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے  : 
	اب اگر کوئی کہے کہ میں توکچھ کہتا ہی نہیں کسی کو بھی ،تو یہ بھی جائز نہیں ہے ۔کہنا تو پڑے گا سمجھانا پڑے گا اورطریقہ اختیار کرنا پڑے گا، اس کے لیے بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ   حکمت کے ساتھ اچھے وعظ کے ساتھ، تو یہ طریقہ استعمال کرنا پڑے گا ۔تو خداوندکریم نے ہمیں بشارت دی ہے کہ جو استغفار کرے گا میں قبول کروں گا اوراُس کے طریقے بتلائے اوراُس میں جو خطرات ہوتے ہیں وہ بتلائے۔ آقائے نامدار  ۖنے دین کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ، سب کچھ بتلایا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے اگلے اورپچھلے گناہوں کو معاف فرمائے اورآخرت میں جناب رسول اللہ  ۖ  کا ساتھ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اختتامی دُعا..............................   
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 حسبہ بل کی چند شقیں 3 2
4 درس حدیث 8 1
5 کسی کے بارے میں دعوٰی نہیں کیا جاسکتا : 9 4
6 ''حقیر '' و '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا : 10 4
7 کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے : 10 4
8 '' قرآن وسنت اور تواتر وتعامل '' 11 1
9 قرآن پاک کی آیت میراث : 16 8
10 (٢) قرآن کریم میں ارشاد ہے : 16 8
11 (٣) حق تعالیٰ کاارشاد ہے : 16 8
12 شخصیت وخدمات حضرت مولانا سید حامد میاں 21 1
13 ایک اہم اصول : 22 12
14 خاتمہ کا اعتبارہوتا ہے : 22 12
15 حضرت نے اپنی تعریف میں نظم رُکوادی : 23 12
16 ایک مجلس کا واقعہ : 23 12
17 حضرت کا باطنی مقام اور حضرت شیخ الاسلام کی شہادت : 24 12
18 سب سے کم عمری میں خلافت عطا ہوئی : 24 12
19 امام الاولیاء حضرت لاہوری کا حضرت کے بارے میں ارشاد 28 12
20 روضۂ رسول ۖسے جواب اور عالم کشف میں بشارت : 29 12
21 ہندوستان سے افغانستان کے لیے روانگی : 29 12
22 غیبی اشارہ اورلاہور میں نزول : 30 12
23 مثالی درس گاہ ..... افراد کی تیاری ..... پُر امن انقلاب : 30 12
24 رائیونڈ روڈ پر درسگاہ اورخانقاہ : 30 12
25 حضرت کا توکل علی اللہ : 31 12
26 حضرت کا اتباع سنت اورتواضع : 32 12
27 بخاری شریف اور انوارات : 33 12
28 مرید ین کی اصلاح وتربیت : 33 12
29 ہر شب شب ِقدر ہے : 34 12
30 اجلاس جمعیت .. ...... گناہ کے کام پر استغفار : 34 12
31 ہدیہ میں احتیاط : 35 12
32 حقوق میں کوتاہی پر مرید کی سرزنش : 35 12
33 واشنگ ویئر اورکے ٹی کا کپڑا ناپسند فرماتے تھے : 36 12
34 طلباء اور سیاست : 36 12
35 ایک مدرس کو تنبیہ : 37 12
36 3سیاسی موقف میں پختگی اورقرآن سے دلیل : 37 12
37 ماہِ رجب کے فضائل واحکام 40 1
38 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 40 37
39 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 42 37
40 ماہِ رجب میں روزے : 44 37
41 رجب کے روزوں سے متعلق ایک اہم علمی تحقیق : 47 37
42 ٢٢ رجب کے کونڈے : 49 37
43 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 49 37
44 ٢٧ رجب کے منکرات اوررسمیں : 53 37
45 ٢٧رجب اورشب ِمعراج : 54 37
46 طلاق ایک ناخوشگوار ضرورت اوراُس کا شرعی طریقہ 58 1
47 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے وفتاوٰی : 58 46
48 گلدستہ احادیث 62 1
Flag Counter