ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2005 |
اكستان |
|
وراللہ تعالیٰ نے اپنا نام رکھا ہے'' متکبر ''بڑائیوں والا سب سے بڑی عظمتوں والا ۔ایک ہی ذات ہے بس جہاں سب ختم ہو جاتے ہیں وہی رہتا ہے ۔ تو ارشادفرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کہ مَنْ ذَاالَّذِیْ یَتَأَ لّٰی عَلَیَّ یہ کون ہے جو میرے بارے میں قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں یہ نہیں کروںگا، یہ جُرأت کیسے ہوئی اس کو ، ناپسند ہے اللہ کو یہ بات ۔ آدمی دوسرے کو نصیحت توکرسکتا ہے ، گناہ سے روک سکتا ہے اورروکنا فرض ہے نصیحت فرض ہے ۔ ''حقیر '' و '' غیر حقیر '' کا پتہ مرنے کے بعد چلے گا : مگر اُسے یہ سمجھ لینا کہ وہ حقیر ہے یہ جائز نہیں ،کیونکہ حقیر اور غیر حقیر کا پتا تو مرنے کے بعد چلتا ہے ،وہ تو پتا ابھی ہے ہی نہیں ۔ کون کدھر جائے گاکدھر نہیں ،کچھ پتا نہیں۔ آخری وقت تک انسان کو یہی بتایا گیا ہے کہ اپنے ایمان کی سلامتی خدا سے چاہو ۔تو مَنْ ذَاالَّذِیْ یَتَأَ لّٰی عَلَیَّ اَنِّیْ لَا اَغْفِرُ لِفُلانٍ یہ کون ہے جو قسم کھا رہا ہے میرے بارے میں کہ میں فلاں آدمی کو نہیں بخشوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍٍ وَاَحْبَطْتُّ عَمَلَکَ اس بندہ سے اللہ نے فرمایا کہ میں نے فلاں کی بخشش کردی جس کے بارے میں تونے قسم کھائی تھی اور تیرا عمل میں نے ساقط کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے استغفار بتائی ، اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف بتایا، نہی عن المنکر بتایا ،بری بات سے روکو مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ کسی کو کمتر نہیں سمجھ سکتے ذلیل نہیں سمجھ سکتے ۔ اگر ذہن میں یہ آئے کہ یہ مجھ سے کمتر ہے تو تم کمترہو گئے اُس سے ۔ جب ذہن میں یہ آئے کہ یہ مجھ سے نیچا ہے تو خدا کی نظر میں تم نیچے ہوگئے وہ اُونچا ہو گیا تو یہ جائز نہیں ہے۔ کچھ نا کہنا ،یہ بھی جائز نہیں ہے : اب اگر کوئی کہے کہ میں توکچھ کہتا ہی نہیں کسی کو بھی ،تو یہ بھی جائز نہیں ہے ۔کہنا تو پڑے گا سمجھانا پڑے گا اورطریقہ اختیار کرنا پڑے گا، اس کے لیے بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ حکمت کے ساتھ اچھے وعظ کے ساتھ، تو یہ طریقہ استعمال کرنا پڑے گا ۔تو خداوندکریم نے ہمیں بشارت دی ہے کہ جو استغفار کرے گا میں قبول کروں گا اوراُس کے طریقے بتلائے اوراُس میں جو خطرات ہوتے ہیں وہ بتلائے۔ آقائے نامدار ۖنے دین کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ، سب کچھ بتلایا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے اگلے اورپچھلے گناہوں کو معاف فرمائے اورآخرت میں جناب رسول اللہ ۖ کا ساتھ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اختتامی دُعا..............................