ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2005 |
اكستان |
|
ڈاکٹر عثمانی نے اس کی دوتاویلیں کیں ایک یہ کہ یہ ایک استثنائی واقعہ ہے ،حالانکہ ایک نہیں اس قسم کے کئی واقعات ہیں تو کس کس کو استثنائی کہہ کر ٹالا جائے گا۔ دوم یہ کہ چونکہ ان لوگوں نے مہمان نوازی نہیں کی تھی اس وجہ سے بطورِ جرمانہ انہوں نے مہمانی حاصل کی یہ دم کی اُجرت نہیں تھی، حالانکہ روایت میں لفظ ہیں'' جب تک تم ہمیں اس کی اُجرت دینے کا وعدہ نہ کرو'' یہ کس کی اُجرت کا کہا؟کیا مہما نی کی اُجرت بھی ہوتی ہے ؟ پھر بقول ڈاکٹر عثمانی سلیمان بن قتیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ'' پھر قبیلہ والوں نے ہمارے لیے بھیڑیں بھیجیں اورضیافت کے لیے کھانا بھی ،جس کو ہم نے کھایا'' (تعویذات اورشرک ص ١٣ ) توجب ضیافت کے لیے کھانا بھیجا تو اب بھیڑیں کس ضیافت میں تھیں ؟ واضح ہے کہ یہ اُسی دم کی اُجرت تھیں۔ ''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک پانی کے پاس سے گزری، وہاں ایک آدمی کو سانپ یابچھو نے ڈسا تھا تو ایک صحابی نے سورۂ فاتحہ کا دم کیا (وہ درست ہوگیا ) اور صحابی بکریاں لے آئے۔ صحابہ کرام نے ان سے کہا کہ تم نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے۔ آخر مدینہ منورہ آکر نبی کریم ۖ کو بتلایا تو آپ ۖ نے فرمایا ان احق ما اخذ تم علیہ اجرا کتاب اللّٰہ بیشک سب سے زیادہ اس بات کے لائق کہ تم اُس پر اُجرت لو کتاب اللہ ہے'' ۔(درمنثور ص٤ ج١ بحوالہ بخاری ص٨٥٤ ج ٢ وبیہقی و مسند احمد ) ''حضرت قیس بن ابی حا زم سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم ۖسے پوچھا کہ ایک آدمی کو جنون تھا ،میں نے دم کیا تو مجھے بکریاں دی گئی ہیں تو نبی علیہ السلام نے فرمایا جو ناجائز دم سے کھائے تو ناجائز ہے ،تونے توحق دم کے بدلے میں لیا ہے جائز ہے'' ۔ (ابن ابی شیبہ ص٤٤٦ج٥) ''حضرت یعلی بن مرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت کے بچے کو جن کا اثر تھا ،نبی علیہ السلام نے دم کیا اُس نے آپ ۖ کو کئی بکریاں دیں ۔آپ ۖ نے حضرت یعلی سے فرمایا ایک بکری لے لو باقی واپس کردو'' ۔(ابن ابی شیبہ ص٤٤٦ ج٥) (3) حضرت وضین بن عطاء فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں تین معلمین (اساتذہ) تھے، فکان عم