ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
ہر مسئلہ کا مأخذ بیان کردیاہے اس حوالہ سے یہ تفسیر جہاں حدیث وفقہ سے بھر پور ہے وہیں احسان وتصوف سے بھی معمور ہے اس لیے اس تفسیر کو جس طرح محدثانہ اور فقیہانہ طرز کی کہا جا سکتا ہے اسی طرح صوفیانہ اور عارفانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایسی تفاسیر کمیاب ہیں جن میں بیک وقت حدیث وفقہ اور تصوف کو جمع کرکے آیات کی تفسیر کی گئی ہو، بعض تفسیریں خالص محدثانہ رنگ کی لکھی گئی ہیں جیسے تفسیر ابن کثیر یا تفسیر درمنثورو غیرہ بعض تفاسیر خالص تصوف وطریقت کے نقطۂ نظر سے لکھی گئی ہیں جیسے شیخ محی الدین ابن عربی کی تفسیر اور بعض تفسیریں فقط علم ِ کلام اور عقائد کے نقطۂ نظر سے لکھی گئی ہیں لیکن حضرت تھانوی کی تفسیر ''بیان القرآن''ان سب علوم کی جامع ہے جس کی نظیر اُردو زبان میں مشکل ہی سے مل سکتی ہے اس لیے اگر اس تفسیر کو عدیم النظیر نہ کہا جا ئے تو کم از کم قلیل النظیر ضرور کہاجا سکتا ہے کیونکہ اُردو کی دیگر تفاسیر میں یہ خصوصیات یکجا نظر نہیں آتیں۔ اس تفسیرکی ثقاہت کے لیے حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ کایہ بیان کافی ہے کہ : ''میں ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ اُردو کا دامن علم و تحقیق سے خالی ہے لیکن مولانا تھانوی کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں تر میم کرنا پڑی اوراب سمجھتا ہوں کہ اُردو بھی بلند پایہ علمی تحقیقات سے بہرہ ورہے۔'' تفسیر ''بیان القرآن''عرصہ سے شائع ہورہی ہے ۔ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان کے مدیر مولانا محمد اسحٰق صاحب نے بھی اسے اپنے ادارہ سے شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے آپ کی شائع کردہ تفسیر میں درج ذیل امتیازات ہیں : (١) تفسیر کو دو کے بجائے تین جلدوں میں کردیا گیا ہے جس سے ایک تو جلدوں کا حجم کم ہوگیاہے دوسرے قلم جلی ہوگیاہے۔ (٢) مکمل طور پر کمپوزنگ کتابت کروائی گئی ہے جس کا خط عام خطوط کے مقابلہ میں خوشنما اور عمدہ ہے۔ (٣) کمپوزنگ اور ترتیب اُس قدیم نسخے کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے جو خود حضرت تھانوی کا نظر فرمودہ ہے۔ (٤) شروع میں حضرت مولانا عبدالشکور ترمذی کے قلم سے تفسیر کا تعارف دیا گیا ہے ۔ (٥) اسی طرح شروع میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی مختصر سوانح ذکر کر دی گئی ہے۔ ان امتیازات کے ساتھ یہ تفسیر ظاہری حسن سے بھی آراستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا اسحٰق صاحب کی اس خدمت کو قبول ومنظور فرمائے اور مزید کی توفیق عنایت فرمائے۔ ٭٭٭