ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2003 |
¾اكستان Ù |
|
لسلام کہا تو اس کی امامت ختم ہو گئی ۔ چنانچہ السلام کی میم کہہ لینے کے بعد اگر کسی شخص نے اس کی اقتدا ء کی تو اقتداء درست نہ ہوگی اس سے پہلے اقتداء درست ہے۔ مسئلہ : اگر السلام علیکم ورحمة اللہ کے وقت سلام نہیں پھیرا بلکہ سلام کا وقت آیا تو کسی سے بول پڑا باتیں کرنے لگا یا اُٹھ کر کہیں چلا گیا اور کوئی ایسا کام کیا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ فرض تواُتر جائے گا لیکن نماز کا دہرانا واجب ہے۔ پھر سے نہ پڑھے گا تو بہت بڑا گناہ ہوگا۔ (١٢) نماز وتر میں دُعائے قنوت کے لیے تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا ۔ (١٣) نماز وتر میں قنوت میں کوئی دُعا پڑھنا ۔ (١٤) عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبیریں کہنا ۔ (١٥) فرض یا واجب میں تاخیر نہ ہونا اور تاخیر یہ ہے کہ دو فرض یا دو واجب یا فرض و واجب کے درمیان تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار وقفہ ہوجائے۔ (١٦) نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت کرنا۔ (١٧) نماز میں سہو ہوا تو سجدہ سہو کرنا ۔ (١٨) قرأت کے سوا تمام فرائض اور واجبات میں امام کی اتباع کرنا۔ (١٩) امام کو فجر کی دونوں رکعتوں میں اورمغرب کی اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اور جمعہ اور عیدین اور ترایح کی نماز میں اور رمضان کے وتر میں بلند آواز سے قرأت کرنا واجب ہے۔ مسئلہ : منفرد کو فجر کی دونوں رکعتوں میں اورمغرب و عشا ء کی پہلی دو رکعتوں میں اختیار ہے چاہے بلند آواز سے قرأ ت کرے یا آہستہ آواز سے ،آواز بلند ہونے کی فقہا ء نے یہ حد لکھی ہے کہ کوئی دوسرا شخص سن سکے اور آہستہ آواز کی یہ حد لکھی ہے کہ خود سن سکے دوسرانہ سن سکے ۔آہستہ میںاگر زبان سے حروف ادا کیے لیکن اتنے آہستہ کہ خود نہیں سن سکاتو قرأت صحیح نہ ہوئی۔ مسئلہ : امام اور منفرد کو نماز ظہر اور عصر کی کل رکعتوں میں اور مغرب و عشاء کی اخیر رکعتوں میں آہستہ آواز سے قرأت کرنا واجب ہے۔ مسئلہ : جو نفل نمازیں دن کو پڑھی جائیں ان میں آہستہ آواز سے قرأت کرنا چاہیے اور جو نفلیں رات کو پڑھی جائیں اُن میں اختیار ہے۔ (باقی صفحہ )