ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2003 |
اكستان |
|
ب ہوں گے۔ اس کے بال گھنگریالے ہوں گے ۔ اس کی (دونوں ہی آنکھیں عیب دار ہوں گی )ایک آنکھ (یعنی دائیں)سپاٹ ہو گی ،نہ اُبھری ہوئی ہو گی اور نہ ہی اندر کو دھنسی ہوئی ہوگی ( اس میں بھی ناخونہ ہو گا جس کی وجہ سے اس آنکھ کی بینائی بھی کمزور ہو گی )جب کہ دوسری یعنی بائیں آنکھ سے وہ کانا ہوگا اور وہ انگور کے دانے کی طرح اُبھری ہوئی ہوگی اس کے رعب و دبدبہ اور شعبدہ بازیوںکو دیکھ کر)اگر تم کو اشتباہ ہو جائے (تو کم ازکم اتنی بات تو یاد رکھنا کہ )تمہارا حقیقی رب کانانہیں ہے۔ عن حذ یفہ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی ۖ قال ان الدجال یخرج وان معہ مائً ونارا فاما الذی یراہ الناس مائً فنار تحرق واما الذی یراہ الناس ناراً فماء باردة عذب فمن ادرک ذٰلک منکم فلیقع فی الذی یراہ نارًا فانہ ماء عذب طیب ۔ (بخاری و مسلم) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ۖ نے فرمایا دجال نکلے گا ا ور اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہوگی (اس نہر کے ساتھ باغ بھی ہوگا )۔ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہ اس میںاپنے ماننے والوں کو داخل کرے گا )اور (ایک نہر سی )آگ کی ہوگی (جس میں وہ اپنے نہ ماننے والوں کو داخل کرے گا)جس کو لوگ پانی دیکھتے ہوں گے وہ (اپنے اثرکے اعتبار سے)جلانے والی آگ ہو گی (کہ جہنم کی آگ میں داخلہ کا باعث ہوگی )اور جس کو لوگ آگ دیکھتے ہوں گے وہ (اپنے اثر کے اعتبار سے ) ٹھنڈا میٹھاپانی ہو گی (کہ اگرچہ وہ لوگ آگ میں جل جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو جلنے کی تکلیف سے محفوظ رکھیں گے اور ان کی موت بڑی صفحہ نمبر 50 کی عبارت راحت سے آئے گی اور موت کے بعد ان کو جنت کا ٹھنڈا میٹھا پانی میسر ہو گا )تو جس کسی کو اس صورت حال سے سابقہ پیش آئے وہ اس میں داخل ہو جس کو وہ آگ دیکھتا ہو کیونکہ وہ (اپنے اثر کے اعتبار سے ) ٹھنڈا میٹھا پانی ہے۔ فائدہ : بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ کا حقیقی معنی مراد ہے اور اس کی آگ داخل ہونے والوں پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔ عن انس عن رسول اللّٰہ ۖ قال یتبع الدجال من یہود اصفہان سبعون الفا علیھم الطیالسة۔ (مسلم)