ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2003 |
اكستان |
|
عالمی خبریں اسلام سچا مذہب ہے دس سال میں بیس ہزار انگریز مسلمان ہوگئے برطانوی نو مسلموں نے خود کو اسلامی سانچہ میںڈھال کر غیرمسلموں کو بھی اسلام کی طرف متوجہ کیا ١١ستمبر کے بعد لوگوں کی اسلام میں دلچسپی مزیدبڑھ گئی دکانوں سے قرآن پاک کے تمام نسخے بک گئے مساجد غیر مسلموں سے بھرتی نظر آئیں، مانچسٹر کی ایک مسجد میں ٨ ١افرادنے اسلام قبول کیا ۔ڈیلی میل قبول اسلام کے بعد میری زندگی بالکل بدل گئی نیلی آنکھوں والے نوجوان جو احمد کا بیان لندن (انٹرنیشنل ڈیسک ) یورپ او ر امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے گزشتہ ١٠ برس میں برطانیہ میں ٢٠ ہزار انگریزوں نے اسلام قبول کیا اس کا انکشاف ''ڈیلی میل ''لندن نے کیا ۔اخبار میں انگریز خاتون صحافی ریپکا ماڈلر کا ایک آرٹیکل شائع ہواہے جس میں انہوں نے بتایا کہ مسلمان ہونے والے انگریزوں نے پانچ وقت نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اسلامی سانچہ میں ڈھال کر غیر مسلم انگریزوں کو اسلام کی طرف متوجہ کیا ہے ۔یہ سب کے سب سفید فام مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے کے علاوہ اچھا معاشرتی مقام رکھتے ہیں ۔آر ٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ١١ستمبر کے واقعہ کے بعد ایک حیران کن امر یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ لوگوں نے اسلام کے بارے میں بے مثال دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بُک شاپس میں قرآن کریم کے جتنے نسخے تھے سب بڑی تیزی سے فروخت ہو گئے جبکہ مساجد غیر مسلموں سے بھرتی نظر آئیں۔ بہت سے لوگ اسلام کے بارے میںمعلومات حاصل کرنے کے متمنی ہیں ۔قبول اسلام کرنے والوں کی بھی ایک ایسی لہر اُٹھی کہ مانچسٹر کی ایک مسجد میں چند ہفتوںمیں ٨ ١افراد نے اسلام قبول کیا ۔ریپکا ما ڈلر نے ایک سابق انگریز کیبنٹ لیبر ہیلتھ منسٹر فرینک ڈوبسن کے صاحبزادے جو احمد ڈوبسن کے قبول اسلام کی داستان رقم کی ہے جو ایک ٢٦سالہ دلکش نیلی آنکھیں رکھنے والے نومسلم نوجوان کی قابل رشک زندگی کا آئینہ ہے۔ مصنفہ لکھتی ہے کہ جو احمد ایک نو مسلم کا ماڈرن کا چہرہ ہے اس کی زندگی پوری طرح اسلامی رنگ میں ڈھلی ہوئی اور اسلاف کانمونہ ہے جو احمد کا کہنا ہے کہ اسلام آج اکیسویں صفحہ نمبر 57 کی عبارت صدی میں بھی مکمل نظام حیات ہے جو احمد بتاتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میںمیری سوچ بھی منفی تھی ۔میرا خیال تھا کہ اسلام میں شدت پسندی ہے ۔عباد ات ہیں اور روزے ہیں ۔١٦سالہ کی عمر میںایک بنگلہ دیشی دوست نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کا نسخہ برائے مطالعہ دیا ۔جیسے ہی میں نے اس کا مطالعہ کیا تو اسے اپنے خیالات کے برعکس پایا او ر محسوس کیا کہ اس میںزیادہ تر زور علم ،تعلیم اور مساوات انسانی پر ہے حتی کہ مرد اور عورت دونوں مساوی حقوق کے حامل ہیں ۔زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے سوال 'کیوں 'کا جواب ملا کہ کیوں میں ہر انسان کے ساتھ بھا ئی او ر بہن کے طورپر سلوک کروں اور کیوں ایک بہتر انسان کے