ماہنامہ انوار مدینہ لاہورجولائی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
قاہرہ کی ایک تبلیغی مجلس میں ١٩٠٦ء میں ایک عیسائی مبلغ نے کہا۔ اب ١٩٠٦ء میں مرزا غلام احمد ستر سال کی عمر کے قریب ہے اور مذہبی لگن اور یقین کامل کے دعوے اس کے بہت سے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے ہیں اور اس میںکوئی شک نہیں کہ اس نے واضح صفحہ نمبر 17 کی عبارت دھوکہ دہی اختیار کر رکھی ہے ۔اگر یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے بد ترین ہتھکنڈے اختیار کر رہا ہے۔ ٣ مرزا صاحب کے رنگ برنگے ماضی ،ان کے دعوئوںتحریروں ،وحی والہامات اور پیش گوئیوں وغیرہ کا تجزیہ یہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک باخبر کذاب تھے۔ سب کچھ جانتے ہوئے دھوکہ دے رہے تھے انہوں نے سامراجی ضروریات کا احساس کرکے خدا کے نام کو ان کی تکمیل کے لیے استعمال کیا اس تمام کاروبار کا مقصد ذاتی عظمت او ر مذہب کے نام پر دولت و شہرت اکٹھی کرنا تھا۔ قادیانیوںکی انجیل ''تذکرہ '' میں وہ لغو یات اور احمقانہ پن ہے جو مقدس اشخاص کے سوانح یا تاریخ میں نہیں ملتا۔ اس کی وحی عربی ،اردو ،فارسی ،انگریزی، عبرانی ،ہندی اور پنجابی زبان میں ہے زبان بھی گھٹیا،مبہم ،عامیانہ اور غلط ہے حقیقت میں اس کا بڑا حصہ لغو اور بے معنی فقرات پرمشتمل ہے جس کے کوئی واضح معانی نہیں ہیں ۔قادیانی ان بیانات کی کئی تاویلیں پیش کرکے مرزا صاحب کی نبوت ثابت کرتے ہیں ۔کچھ وحی اعداداور خانوں کی شکل میں ہے اور بقیہ غیر معروف اور نامعلوم زبان میں ہے جس کے بارے میں خود اس کا اپنا اقرار ہے کہ اسے سمجھ نہیں۔یہ الم غلم خیالات ان کے اندرونی احساسات ،جذباتی بحران اور ذہنی پسماندگی کو منعکس کرتے ہیں ۔مرزا صاحب چونکہ تمام عمر مختلف اقسام کی بیماریوں مثلاً اعصابی تنائو، سر چکرانا ،ذیابیطس ،درد شقیقہ،قولنج ،تپ دق ، خفقان ،مردمی کمزوری اور شدید اور مستقل پیچش میں مبتلارہے اس لیے اس کے ذہن میں کچھ عدم توازن کی کیفیات پیدا ہو گئی تھیں ۔وہ ذہنی طور پر غیر متوازن تھے مگر ہر طرح سے ایک فریب کار اور عملاًمکاری میں مبتلارہے ۔وہ غیر ملکیوں کا آلہ کار بن چکے تھے کیوں کہ اسی دروازے سے وہ آگے بڑھ سکتے تھے۔ وہ اپنے سیاسی مقصد میں بالکل واضح موقف رکھتے تھے اس میں کبھی تضاد پیدا نہ ہو ا ۔شروع سے آخر تک ایک رہا ،ان کی عام تحریروں کے بین السطور لب لباب برطانیہ سے وفاداری ، جہاد کی مذمت،اسلامی دنیا کو سامراجی تسلط کے تحت دیکھنے کی خواہش اور ہندوستان میں سامراج کے استحکام کے لیے خدمات سر انجام دینا ہے۔وہ اپنے مخالفین کے لیے بڑی سخت زبان استعمال کرتے تھے جبکہ غیر ملکی آقائوں کے لیے ان کی زبان بڑی ملائم ہو جاتی ان کی ایک بھی وحی ،پشینگوئی یا خواب ایسا نہیں جو کسی بھی طرح سے برطانوی مفادات کے خلاف جاتاہو یا ایک نوآبادیاتی طاقت کے طور پر کی گئی ان کی 3. The Muhammadia World Today,papers presented at First Missionary Conference Cairo 4-9 April 1906 ,London