ماہنامہ انوار مدینہ لاہورجولائی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کونسل پی این اے ہاؤس میں اپنا اجلاس منعقد کرنے پر مارشل لا ء کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار ہو گئی تھی ۔ان میں میاں محمود علی قصوری مرحوم، اقبال احمد خان مرحوم، ملک محمد اکبر ساقی مرحوم ،جناب محمد اسلم سلیمی، محمد اکبر فرید پراچہ اور پچاس سے زائد دیگر رہنمائوں کے علاوہ مولانا اجمل خان موحوم اور راقم الحروف بھی تھے ۔ کیمپ جیل لاہور میں آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ قائم ہوئی جس میں کرنل نصیر احمد ہمارے مقدمہ کی سماعت کرتے تھے ۔مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک پولیس افسر نے گواہی دیتے ہوئے تھانہ کے روزنامچہ کے بارے میں یہ جملہ کہہ دیا کہ ہمارے لیے تو یہ قرآن پاک کی طرح ہے۔ یہ جملہ سنتے ہی مولانا محمد اجمل خان بے تابی سے اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور عدالت سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس پولیس افسر نے قرآن کی توہین کی ہے اس کو روکا جائے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے ۔کرنل نصیر احمد نے بہت توجہ دلانے کی کوشش کی کہ آپ عدالت میں کھڑے ہیں مگر مولانا اجمل خان کے جوش وجذبہ میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی ۔وہ بدستور کھڑے رہے اور پکارتے رہے کہ اس پولیس افسر کے خلاف کارروائی کے بغیر وہ نہیں بیٹھیں گے اور عدالت کا معاملہ آگے نہیں چلے گا۔ تھوڑی دیر میں عدالت جلسہ گاہ کی صورت اختیار کر چکی تھی ۔مولانا محمد اجمل خان نے عظمت قرآن کریم پر چند جملے اس انداز میں کہے کہ عدالت میں کہرام مچ گیا ،رونے اور سسکیوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔کچھ نوجوانوں نے جذبات سے مغلوب ہو کر دیواروں سے سر ٹکراناشروع کر دیا جس پر کرنل موصوف کو مذکورہ افسر کے خلاف کارروائی کے وعدے کے ساتھ عدالت فوری طور پر برخاست کرنا پڑی اور اس کے بعد عدالتی کارروائی آگے نہ چل سکی۔ اس کے ایک دو روز بعد لاہور ہائی کورٹ نے مارشل لاء کو خلاف دستور قرار دے کر ہم سب کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔ دوسرا واقعہ بھی پاکستان قومی اتحاد کے حوالے سے ہے ۔قومی اتحاد کی جنرل کونسل میں حضرت مولانا مفتی محمود کے ساتھ اکثر حضرت مولانا عبیداللہ انور اور حضرت مولانا محمد اجمل خان جایا کرتے تھے ۔مولانا مفتی محمود قومی اتحاد کے سربراہ تھے اور ایک اجلاس میں بزرگ مسلم لیگی رہنما خواجہ محمد صفدر مرحوم نے مفتی صاحب کے کسی بیان پر اعتراض کیا اور کہا کہ پالیسی سے متعلقہ معاملات پر بیان دینے سے پہلے مفتی صاحب کو ہمیں یعنی پاکستان قومی اتحاد میں شریک دوسری جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے ۔خواجہ صاحب مرحوم کا موقف اصولاً درست تھا مگر لہجہ کچھ تلخ ہو گیا خواجہ صاحب خود بھی مسلم لیگ کے سینئر رہنمائوں میں شمار ہوتے تھے اور مفتی صاحب کے معاصرین میں سے تھے اس لیے انھوں نے شائد اس کو اپنا حق سمجھتے ہوئے لہجے میں تلخی کا عنصر کچھ زیادہ ہی شامل کرلیا جسے مولانا محمد اجمل برداشت نہ کرسکے وہ فورًا کھڑے ہوگئے اور خواجہ صاحب سے مخاطب ہوکر کہا آپ صرف ایک سیاسی رہنما سے بات نہیں کررہے بلکہ جس سے مخاطب ہیں وہ بزرگ عالم دین بلند پایہ مفتی اور وقت کے محدث بھی ہیں اس لیے محتاط ہو کر گفتگو کریں ۔خواجہ صاحب نے بہت صفائی پیش کرنا چاہی ۔ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے مفتی صاحب کے بیان کا نوٹس لینا اور تنقید کرنا ہمارا حق ہے مگر مولانا محمد اجمل خان