ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
از پروفیسر میاں محمد افضلصاحب اثرکرے نہ کرے سُن تولے فریاد میری بسلسلہ حج ٢٠٠٢ء نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ! قارئین گرامی بندہ نے گزشتہ سال حج ٢٠٠١ء کے سلسلہ میں حجاج کرام کی مادی اور رُوحانی مشکلات کے بارے میں ایک مضمون اپنی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے بہ عنوان ''خوگرِحمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے ''تحریر کیا تھا جسے ماہنامہ ''الخیر ''ملتان ، ماہنامہ ''انوار مدینہ ''لاہور اور ماہنامہ ''حق چاریار ''نے شائع کیا تھا لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق وزارت ِ مذہبی امو ر کے کار پردازوں پراس کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ اس سال بندہ پھرحجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا گیا ۔٢٠٠٢ ۔٣۔١٩ کو واپسی ہوئی۔حجاج کرام کو بسوں پر لے جانے والے ڈرائیوروںکی من مانیاں حسب سابق جاری رہیں ۔حجاج کرام کی نمازوں کوقضا کرانے کا فریضہ انہوں نے باحسن وجوہ سرانجام دیا۔ حجاج کرام کی سرکاری رہائشوں کے بارہ میں بھی شکایات سننے میں آتی ر ہیں۔ غیر مقلدین کی احناف کے خلاف چیر ہ دستیاں بھی حسبِ معمول جاری رہیں ،ہاں اس سا ل مدینہ یونیورسٹی کے غیر مقلد طلبا ء کو مسجد نبوی کے اندر اور باہر حلقہ ٔدرس قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔غالبًا مولانااسعد مدنی مدظلہ صدر جمعیت علماء ہند بھارت نے جو خط شاہ فہد کو لکھا تھا یہ اس کا اثرتھا۔فللّٰہ الحمد اس مرتبہ بھی حجاج کرام کو حج سے پہلے اور حج کے دوران ایسی کتابیں دی گئیں جن میں احناف کی مسلمات کے خلاف مسائل درج تھے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے نوے فیصدسے زیادہ حاجی فقہ حنفی کے پیروکار ہوتے ہیں ۔یہ لوگ عالم نہیں ہوتے جب ان کے درمیان ایسی کتابیں تقسیم کی جاتی ہیںجن میں فقہ حنفی کے خلاف مسائل درج ہوتے ہیں تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں اورجس چیز میں اُن کو آسانی نظر آتی ہے اُس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح بعض لوگ الحاد وزندقہ کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنا حج خراب کرلیتے ہیں ۔ حج سے واپسی کے موقعہ پر اس مرتبہ بھی غیر مقلدین کی تفسیر و ترجمہ والا قرآن پاک حجاج کرام میں تقسیم کیاگیااور ساتھ ہی کچھ کتابیں دی گئی جن کا مقصد ِوحید عوام احناف کو فقہ حنفی سے بد ظن کرکے اُن میں غیر مقلدیت کے جراثیم پیدا کرنا ہے ۔ہر حاجی کو ایک کیسٹ بھی دی گئی جس کا عنوان ''اہم دینی اسباق ''تھا اس میں وضو سے لے کرنماز جنازہ تک کے مسائل بیان کیے گئے ہیں جن میںبہت سے مسائل فقہ حنفی کے خلاف ہیں اور غیر مقلدین کے طریق کار کے