ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
قربِ قیامت کی بعض علاماتاحادیثِ نبویہ کی روشنی میں ( حضرت مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمہ اللہ ) ٭ قال اللّٰہ تبارک وتعالی : وانّہ لعلمُ للسََّاعة۔(پ ٢٥ سورۂ زخرف آیت ٦١) ترجمہ : ''اوروہ نشان ہے قیامت کا ۔'' اس کی مختصر اًتفسیر کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمةاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ''یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا اول مرتبہ آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا کہ بدون باپ کے پیدا ہوئے اور عجیب وغریب معجزات دکھلائے اوردوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا ۔ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیںگے کہ قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے ۔'' احادیث مقدسہ میں علامات قیامت بہت بتلائی گئی ہیںلیکن ان میں ترتیب کیا ہوگی اور ایک علامت سے دوسری علامت تک کتنا فصل ہوگا،اس کی صراحت بہت کم علامات میں فرمائی گئی ہے ۔ حدیث کی سب کتابوں میں ''کتاب الفتن'' موجود ہے اوراس میںباب العلامات بین یدی الساعة یعنی قیامت سے پہلے وجود میں آنے والی علامتوںکے باب موجود ہ ہیں ۔ علماء کرام کو حق تعالیٰ جزائے خیر دے کہ انہوں نے یہ بھی کوشش کی کہ یہ علامات یک جا کردی جائیں اور ان میں کیا ترتیب ہوگی وہ بھی ذکر کردی جائے۔ اس سلسلہ میںسب سے مفید رسالہ وہ ہے جو حضرت شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی رحمةاللہ علیہ نے تحریرفرمایا ہے ۔اس میں بہت سی احادیث سے استفادہ کرکے ایک مضمون کی شکل دیدی ہے۔اسی سے اقتباس کرکے یہ مضمون لکھ رہاہوں۔ قربِ قیامت کی علامات میں فسق وفجور بڑی علامت ہے۔ اس کی تھوڑی سی تشریح عرض کرتا ہوں ۔ کفر اور فسق دو لفظ ہیں ۔بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کفرکا تعلق عقیدہ سے ہے اور فسق کا تعلق فقط اعمال سے ہے ۔ کوئی آدمی خلافِ شرع کام کرتا ہو تو اسے فاسق کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فسق کاتعلق عقیدہ اور عمل دونوں سے ہوتا