ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
قانون تھا جس کے ذریعہ سے جبر ی طور پر عبادت کرائی جاتی تھی مغلو ں کے زمانہ میں اس قسم کا کوئی جبر نہیںکیا گیا Bartholomew'sDay جیسے قتل عام سے مغلوں کی تاریخ کبھی داغدارنہیں ہوئی، مذہبی جنگ کی خون ریزی سے یورپ کی تاریخ بھری ہوئی ہے لیکن مغلوں کے عہد میں ایسی مذہبی جنگ کی مثا ل نہیں ملتی ، بادشاہ مذہب اسلام کا محافظ اورنگہبان ضرور سمجھا جاتا،لیکن اس نے کبھی غیر مسلم رعایا کے عقائد پردبائو نہیں ڈالا ۔ ١ پرمتھا سرن نے اپنی کتاب پرونشل گورنمنٹز انڈر دی مغلز میں لکھا ہے کہ مغلوں کی حکومت عروج کے ز مانہ میں صفحہ نمبر 50 کی عبارت دنیا کی شاندار حکومتوں میںسے ایک تھی اور اس کی تمام معاصر حکومتوں میںاس سے زیادہ وسیع اور مستحکم کوئی حکومت نہ تھی اس نے ہندومسلمان دونوں کو متحد کیا ،اس کی کارکردگی ایسی تھی جس پرفخر کیا جا سکتا ہے ،اٹھارہویں صدی عیسوی میں سر جا ن شور بہت بڑا مدبر گزرا ہے جو حکومت کے نظم ونسق میں بڑ اماہر سمجھا جاتا تھا،اس کا بیان ہے کہ جب ایسٹ انڈیاکمپنی برسر اقتدار ہوئی تو اس وقت صوبوں کے نظم ونسق میں ابتری ضرور تھی لیکن اس کا جو نظام تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلوں کی حکومت استحکام اور دانش مندی کی مضبوط بنیاد پر قائم تھی جس میں مختلف فرقوں کے حقوق کی پوری حفاظت تھی۔ ہندوئوں کے لیے قوانین ان ہی کے بنائے ہوئے تھے جن پرسختی سے عمل درآمد کرنے کی کوشش کی جاتی ۔ (جاری ہے)