ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
بھیج کر اس کو ایڑیاں رگڑ رگڑکر مرنے پرمجبو ر کیا وہ فرانسیسوں سے برابر لڑتے رہے ،دکن میں نواب نظام الملک آصف جاہ،نواب ناصر جنگ ،مظفر جنگ ،چند اصا حب ،نواب صلابت جنگ پہلے فرانسیسیوں کی ریشہ دوانیوںکے شکار رہے ۔ ١٧٥١ء میں کلائیونے الکاٹ پرحملہ کیا ،اور اس پر قابض ہوگیا ،اس کے بعد وہ فرانسیسوں سے برابر لڑتے رہے ۔ کلائیوکو بنگالہ میں بھی اس کی چالبازیوں سے کامیابی حاصل ہوئی ،١٧٥٢ء میں نواب علی دردی خان کے بعد اس کا نواسہ سراج الدولہ جانشین ہوا ،مغلیہ سلطنت کی کمزوری کی وجہ سے نواب علی دردی خان نے بنگالہ میں خود مختار ریاست قائم کرلی تھی ،نواب سراج الدولہ کے مخالفوں کی حمایت انگریزکرنے لگے تو سراج الدولہ نے ان کے خلاف لشکر کشی کی مگر یہ انسانی تاریخ کا بہت ہی شرمناک و ا قعہ ہے ۔انگریزوں نے سراج الدولہ کے درباریوں میں سے امی چند اور میر جعفر کو غداری کرنے پر آمادہ کیا ۔امی چند سے ایک فرضی اورجھوٹاوعدہ کیا کہ وہ اس کو تیس لاکھ روپے دیں گے اور میرجعفر کو بنگال کا حاکم بنانے کا وعدہ کیا ،سراج الدولہ اور انگریز وں سے لڑائی ہوئی ،آخر میں میر جعفر کی غداری سے وہ ہارا اور مارا گیا، میر جعفر کو بنگال کاحاکم بنایا مگر اس کو بیس لاکھ روپے تو صرف کلائیو کو نذرانہ دینے پڑے اور پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے اورعہدیداروں کو بھی بے شمار روپے دیے ،کشتیوں میں بھر بھر کے روپے او ر زرو جواہرات کلکتہ بھیجے گئے چوبیس پر گنہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالہ کردیا گیا ، میر جعفر بنگال کا حاکم تو بن گیا مگر جب انگریزوں کو دکن میں کامیابی حاصل ہوئی اور ولندیزیوں کو بنگال سے نکال دیا تو انھوں نے میر جعفر کو تنگ کرنا شروع کیا ،جو انھیں روپے دیتے دیتے تھک چکا تھا ا س نے بر دوان ،مدنا پور اور چاٹ گام کے علاقے بھی اپنی نوابی کی خاطر دے دیے تھے مگر پھر بھی انگریز اس سے مطمئن نہ تھے اور اس کو علیحدہ کر کے اس کے داماد میر قاسم کو بنگال کا حاکم بنایا مگر کچھ دنوں کے بعد انگریزاس کے بھی خلاف ہوگئے اور جب وہ پٹنہ کے مقام پر ان سے لڑا تو شکست کھا گیا کیونکہ انگریزوں نے اس کے حامیوں کو بھی اس سے غداری کرنے پر آمادہ کر لیا، پھرمیرقاسم نے ادھر اُدھر پناہ لے کر دہلی کے پاس اپنی جان جان آ فرین کے سپرد کر دی،انگریزوں کی قوت بڑھ رہی تھی تو انھون نے دہلی کے حکمراں شاہ عالم سے ٹکر لی او ر ١٧٦٤ء میں بکسر کی لڑائی میں اس کو شکست دی اور جب صلح ہوئی تو انگریزوں نے بنگال ،اڑیسہ اور بہار لے کر چھبیس لاکھ روپے سالانہ کی مالگزاری ادا کرنے کا وعدہ کیا اس کے بعد ان کی آویزش مرہٹوں سے ہوئی او ر وہ ان کو بھی شکست دیتے رہے ،٨١ ١٧ء تک آتے آتے انگریزوں کا قبضہ احمد آباد ،گوالیار بیسن اور پونا پر ہو گیا ،گو آگے چل کر مرہٹوں نے یہ علاقے ان سے واپس لے لیے،ان لڑائیوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے اخراجات کافی ہو رہے تھے ۔سرمایہ کی کمی ہوئی تو انگریزوں نے راجہ بنارس کا استحصال شروع کیا ۔ اس راجہ سے بائیس لاکھ روپے سالانہ لے کر انگریزوں نے اس کو اپنی پناہ میں لے لیا تھا ، اس رقم کو بڑھانے پر اصرار کیا تو اختلاف ہوگیا انگریزوں نے ا س کو معزول کر دیا ،اور اس کے خاندان کے ایک دوسرے فرد کو بٹھا کر سالانہ خراج کی رقم بڑھادی ،پھر بھی ان کے اخراجات پورے نہیں ہوئے تو انھوں نے نواب اودھ کی طرف نظر اُٹھائی ،ان کی ایک امدادی فو ج اودھ میں متعین تھی ،اس کے مصارف نواب کے ذمہ تھے جو نواب سے باقاعدہ ادا نہیں ہوئے تو انگریزوں نے ان کی بیگمات کے زیورات، جواہرات ،مال و متاع اور جاگیر یں چھین لیں۔ ارکاٹ پر بھی انگریزاپنی چالبازیوں سے مسلط ہو گئے تھے ،وہاں کے نو اب محمد علی کو اپنا باج گزار بنا لیا تھا اور وہاں جو اپنی فوج رکھ چھوڑ ی تھی اس کے مصارف نواب محمد علی کمپنی ہی کے ملازمین سے سودی روپے قرض لے ادا کر رہاتھا اور اس سودی قرض کے عوض کوئی پرگنہ یا علاقہ رہن رکھ دیتا تھا ،بالآخر انگریزوںنے اس کو بھی مجبور کرکے ارکاٹ کی ریاست کی مال گزاری کو وصول کرنے کا اختیا ر اپنے ذمہ لے لیااور اس کو اس کے خانگی مصارف کے لیے کچھ ر قمیں دینے لگے۔