ماہنامہ انوار مدینہ لاہورمئی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
اب وہ میسور کی طرف متوجہ ہوئے اس کے فرماں روا سلطان حیدر علی کو تووہ اپنی لڑائیوں میں زیر نہ کر سکے ،لیکن ١٧٩٩ء میں انگریزوں نے سرنگا پٹم میں سلطان ٹیپو سے لڑ کر اس کو بے دردی سے شہید کیا ،سلطان بھی بڑ ی جانبازی سے ہاتھ میںتلوار لیے جان بحق ہوا ۔یہ لڑائی لارڈ ویلز لی کے زمانہ میں ہوئی ،جس کے بعد وہ فخر سے کہا کرتا تھا کہ ہندوستان اپنے امن وامان کی خاطر پورا ملک انگریزوں کے حوالے کر دے ،اسی میں یہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبود ہے۔ اسی بہانے انگریزوں نے دکن کے نظام الملک سے ١٨٠٠ء میں معاہدہ کیا کہ ریاست حیدر آباد میں انگریزوں کی جو فوج وہاں کی حفاظت کے لیے متعین ہے اس کی تعداد بڑھا دی جائے ،اور اس کے مصارف کے لیے وہ تما م علاقے ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیے جائیں جو سلطنت میسو ر کی تقسیم کے وقت نظام الملک کو دیے گئے تھے ، پھر ارکاٹ یعنی کرناٹک کے نواب محمد علی کی وفات ہوئی توپہلے اس کا بیٹا ١٧٩٥ء میں نواب عمدة الامراء اس کاجانشین ہوا ۔ ١٨٠١ء میں اس کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹے علی حسین کو اپنا وظیفہ خوار بنا کر رکھنا چاہا ،اس نے انکار کیاتو اس کے ایک رشتہ دا ر عظیم الدولہ کو وہاں کا نواب اس شرط پر بنایا کہ وہ اپنا سارا اختیار کمپنی کے حوالہ کر د ے۔اس کے بعد لارڈ ولزلی نواب اودھ کی طرف متوجہ ہوا اوروہاں کے کمزور نواب پردبائو ڈالا کہ وہاں کی انگریزی فوج کی تعداد دس ہزار سے زیادہ بڑھا دی جائے اور اس کے مصارف کے لیے دوآب اورروہیل کھنڈ کے علاقے انگریزوں کے حوالہ کر دے ،اس طرح نواب اودھ کا آدھا علاقہ انگریزوں کے تسلط میں آگیا۔ پھر تقریبًا چالیس برس تک انگریز مرہٹوں اور سکھوں سے لڑتے رہے اور انھوں نے افغانستان کو بھی ١٨٣٩ء میں فتح کرنے کی ناکام کوشش کی وہاں ان کو کامیابی نہیںہوئی ،انھوں نے سندھ کے امیروں پر یہ الزام رکھا کہ ا نھوں نے انگریزوں کی فوج کی رسد رسانی کا ٹھیک انتظام نہیں کیا اور فوج کی کوچ میں رخنہ ڈالا ،اورپھر وہاں کے امیروں کو اتنا تنگ کیا کہ وہ لڑنے پر آمادہ ہو گئے لیکن انگریزوں نے ١٨٤٣ئ،میں ان کی قوت توڑ کر رکھ دی ۔