Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

254 - 290
باطل اور باطل حق نظر آنے لگتا ہے اور فانی شکلیں اور گناہ کے مواقع اور دنیائے مردار کی فانی لذتیں اس کو نہایت مہتم بالشان معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا آتش انگیز راستہ اس کو پانی کی طرح ٹھنڈا اورلذیذ معلوم ہوتا ہے اوراللہ تعالیٰ کا راستہ جو پانی کی طرح صاف وشفاف اور حیات بخش ہے اسے آگ کی طرح گرم اور کلفت انگیز معلوم ہوتا ہے۔ اس تقلیبِ ابصار سے حدیثِ پاک میں پناہ آئی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَا عَہٗ  وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ؎ 
اے اللہ! مجھے حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع بھی نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق بھی نصیب فرما۔
( احقر راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ اس حدیث ِ پاک کی مندرجہ ذیل تشریح حضرت مُرشدی دامت برکاتہم نے حال ہی  میں ۱۴۲۰؁ھ میں بعض اکابر علماء کے سامنے بیان فرمائی جو مضمون کی مناسبت کی وجہ سے یہاں شامل کی جاتی ہے )
اس حدیثِ پاک کا پہلا جملہ اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا یہ نعمتِ اولیٰ ہے کہ اے اللہ! حق کا حق ہونا مجھ پر واضح فرمادیجیے، لیکن بعض  وقت حق واضح ہوگیا لیکن آدمی اسے قبول نہیں کرتا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے آگے ایک جملہ اور بڑھا دیا :وَارْزُقْنَا اتِّبَا عَہٗ کہ اے اللہ! جب آپ مجھ پرحق واضح فرمائیں تو اس کی اتباع بھی مقدر فرمادیجیے، یہ دوسرا جملہ نعمتِ اولیٰ کا مکمِّل ہے کیوں کہ حق کا ظاہرہونا نعمت ہے، لیکن اگر اتباع کی توفیق نہ ہو تو نعمت کی تکمیل نہیں ہوئی اور جو مقصد ہے وہ حاصل نہ ہوا اوربلاغتِ کلام نبوت دیکھیے کہ وَفِّقْنَا نہیں فرمایا کہ ہمیں توفیق دے دیجیے بلکہ وَارْزُقْنَا فرمایا کہ ہمیں اس کی اتباع کا رزق دے دیجیے، کیوں کہ رزق اپنے مرزوق کو تلاش کرتا ہے جیسا کہ دوسری حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:
اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہٗ؎
رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جس طرح اس کی موت اس کو تلاش کرتی ہے۔ 
------------------------------

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter