فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
باطل اور باطل حق نظر آنے لگتا ہے اور فانی شکلیں اور گناہ کے مواقع اور دنیائے مردار کی فانی لذتیں اس کو نہایت مہتم بالشان معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا آتش انگیز راستہ اس کو پانی کی طرح ٹھنڈا اورلذیذ معلوم ہوتا ہے اوراللہ تعالیٰ کا راستہ جو پانی کی طرح صاف وشفاف اور حیات بخش ہے اسے آگ کی طرح گرم اور کلفت انگیز معلوم ہوتا ہے۔ اس تقلیبِ ابصار سے حدیثِ پاک میں پناہ آئی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَا عَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ؎ اے اللہ! مجھے حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع بھی نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق بھی نصیب فرما۔ ( احقر راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ اس حدیث ِ پاک کی مندرجہ ذیل تشریح حضرت مُرشدی دامت برکاتہم نے حال ہی میں ۱۴۲۰ھ میں بعض اکابر علماء کے سامنے بیان فرمائی جو مضمون کی مناسبت کی وجہ سے یہاں شامل کی جاتی ہے ) اس حدیثِ پاک کا پہلا جملہ اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا یہ نعمتِ اولیٰ ہے کہ اے اللہ! حق کا حق ہونا مجھ پر واضح فرمادیجیے، لیکن بعض وقت حق واضح ہوگیا لیکن آدمی اسے قبول نہیں کرتا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے ایک جملہ اور بڑھا دیا :وَارْزُقْنَا اتِّبَا عَہٗ کہ اے اللہ! جب آپ مجھ پرحق واضح فرمائیں تو اس کی اتباع بھی مقدر فرمادیجیے، یہ دوسرا جملہ نعمتِ اولیٰ کا مکمِّل ہے کیوں کہ حق کا ظاہرہونا نعمت ہے، لیکن اگر اتباع کی توفیق نہ ہو تو نعمت کی تکمیل نہیں ہوئی اور جو مقصد ہے وہ حاصل نہ ہوا اوربلاغتِ کلام نبوت دیکھیے کہ وَفِّقْنَا نہیں فرمایا کہ ہمیں توفیق دے دیجیے بلکہ وَارْزُقْنَا فرمایا کہ ہمیں اس کی اتباع کا رزق دے دیجیے، کیوں کہ رزق اپنے مرزوق کو تلاش کرتا ہے جیسا کہ دوسری حدیثِ پاک میں ارشاد ہے: اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہٗ؎ رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جس طرح اس کی موت اس کو تلاش کرتی ہے۔ ------------------------------