ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میری تندرست آنکھ بھی تمنا کر رہی ہے کہ میں بھی اللہ کے راستہ میں پھوٹ جاؤں ،اے ولید ! مجھے خدا کی پناہ کافی ہے جو تجھ سے زیادہ قادر ہے اور تجھ سے زیادہ غالب ہے ۔ ( اَلبدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٩٣ ۔ حلیة الاولیاء ج ١ ص ١٠٤) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب اِبن دغنہ کی پناہ کوواپس کردیا ، آپ خانہ کعبہ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو قریش کے ایک آدمی نے آپ پر مٹی پھینکی اُس وقت حضرت اَبو بکر کے سامنے سے ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل گزرے تواُس سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے اِس بے وقوف کودیکھا کہ اِس نے کیا حرکت کی ہے ؟ اِس پر ولید نے جواب دیا یہ تو تم نے اپنے ساتھ خود کیا پھر کسی کو کیا کہتے ہو ! اُس وقت حضرت ابو بکر نے تین مرتبہ کہا اے اللہ تو کتنا حلم والا ہے اے رب تو کتنا حلم والا ہے اے خدا تو کتنا حلم والا ہے۔ (اَلبدایہ ج ٣ ص ٩٥) ٭ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں جب میرے شوہر نے ہجرت کااِرادہ کیا تومیرے شو ہر نے مجھ کو اُونٹ پر بٹھایا میری گودمیں میرا شیر خوار بچہ بھی میرے ساتھ تھا، میرے شوہر اُونٹ کی نکیل پکڑ کر چلے جب اُس کو بنی المغیرہ کے مردوں نے دیکھا تو میرے شوہر کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے تجھے اپناتو اِختیار ہے لیکن اِس عورت کی مٹی کیوں خراب کرتا ہے جب ہمارے دم میں دم ہے ہم اِس عورت کو بے وجہ پردیس میں دھکے کھانے کے لیے تیرے ساتھ نہیں بھیجیں گے اور یہ کہہ کر زبر دستی میرے شوہر کے ہاتھ سے اُونٹ کی نکیل چھڑالی اور مجھ کو میرے شوہر سے چھین لیا جب میری سسرا ل والوں کو معلوم ہوا کہ میرے ساتھ یہ قصہ ہوا تووہ بھی پہنچ گئے اور میرے میکے والوں سے اِن کی خوب جھڑپ ہوئی اور میرے سسرال والے کہنے لگے خدا کی قسم ! ہم اپنے بچے کو اُم سلمہ کے پاس نہ چھوڑیں گے جبکہ تم نے ہمارے آدمی سے اِس کی بیوی کوچھڑا لیا۔ آخر کار اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سسرال والے میرے بچے کو زبر دستی میرے پاس سے لے گئے میں اپنے میکے میں رہ گئی میرا دُودھ پیتابچہ اپنی دادھیال میں چلا گیااور میرا شو ہر مدینہ منورہ چلا گیا۔ اِن ظالموں نے میرے شوہر کوبھی مجھ سے چھڑایااور میرے معصوم بچہ کو بھی مجھ سے تڑوادیا۔