ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
کرتا ہوں اور اب میری قطعی رائے یہی ہے کہ اللہ کے سوا اور کسی کی پناہ اور حمایت حاصل نہ کروں۔ اِس پر ولید نے کہااچھا تو بیت اللہ میں چل کر سب کے سامنے میری اَمان مجھ کوکھلم کھلا واپس کردے جس طرح میں نے تجھ کو کھلم کھلا سب کے سامنے اَمان دی تھی ،حضرت عثمان نے فرمایا بہت اچھا چلو چنانچہ دونوں کعبہ کی طرف چلے اور خانہ کعبہ میں آکر ولیدنے کہا یہ عثمان میری پناہ اور حمایت واپس کرتا ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہتا ہے میں نے اِس کو ہر قسم سے اچھا پایا معاملہ کا پکاپایا لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی پناہ میں رہوں اِس خیال سے میں نے اِن کی حمایت کوواپس کردیا پھریہاں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس ہوئے اور ولید بن ربیعہ قریش کی ایک مجلس میں شعر سنارہا تھا تو اُس مجلس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے، اُس وقت لبیدنے یہ مصرع کہا اَلَا کُلُّ شَیْیٍٔ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِل سن لو اللہ کے علاوہ ہرچیز باطل ہے اِس کو سن کر حضرت عثمان نے فرمایا سچ کہاتونے، اِس کے بعد لبید نے دُوسرا مصرع پڑھا وَ کُلُّ نَعِیْمٍ لاَّ مَحَالَةَ زَائِل اور ہر نعمت یقینا زائل ہونے والی ہے اِس پرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو جھوٹا ہے جنت کی نعمتیں زائل ہونے والی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی۔ اِس پر لبید نے قوم کی طرف مخاطب ہوکرکہا دیکھو اِس نے مجھ کو کتنی تکلیف پہنچائی یہ بد بخت یہاں پرکب آیا، لو گوں نے کہاآپ غم نہ کیجئے یہ اُن ہی پاگلوں میں سے ایک پاگل ہے جنہوں نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا اور نیا دین اِختیار کیاہے لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر وہی فرمایا جھوٹاہے تو، نعیمِ جنت زائل نہ ہوگی۔ اِس پر بات بڑھ گئی اور ولید کا وہی معتقد کا فر جو سب سے یہ کہہ رہا تھاکہ یہ بھی ایک پاگل ہے آپ پرواہ نہ کریں اور کھڑا ہو گیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر اِس قدر زور سے گھونسا مارا کہ آپ کی آنکھ پھوٹ گئی۔ اُسی جگہ ولید بن مغیرہ بھی حضرت عثمان کا یہ حال دیکھ رہا تھااُن کوسمجھانے لگاکہ اَفسوس تم نے میری حمایت واپس کر کے اپنی آنکھ بیکار کرادی۔ اِس